امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکا 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔ ان کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان بات چیت جاری ہے اور ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ <Cite
ٹرمپ نے یہ اعلان 8 اکتوبر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ رابطوں کے باوجود ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رہے گی۔ امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ مؤقف بھی دہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیا جائے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات پر توجہ
ٹرمپ کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی انتظامیہ فی الحال انتخابات سے پہلے ایران کے خلاف نئے فوجی حملے کے بجائے مذاکرات اور اقتصادی دباؤ کو جاری رکھنے پر توجہ دے رہی ہے۔ تاہم، حملے نہ کرنے کے اعلان کا مطلب یہ نہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات ختم ہوگئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے خاتمے کے لیے تجاویز کا تبادلہ ہوتا رہا ہے، لیکن اہم معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔ آبنائے ہرمز اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی اس تنازع کے اہم پہلو ہیں۔ <Cite refs=
وسط مدتی انتخابات کیوں اہم ہیں؟
امریکا میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات صدر ٹرمپ کی جماعت ریپبلکن پارٹی کے لیے سیاسی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان انتخابات میں کانگریس کی نشستوں پر مقابلہ ہوگا، جبکہ ایران کے ساتھ جاری تنازع اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے جیسے معاملات بھی امریکی سیاست پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ اور ایندھن کی بڑھتی قیمتیں ریپبلکن امیدواروں کے لیے انتخابی چیلنج بن رہی ہیں۔ تاہم، ٹرمپ نے اپنے تازہ بیان میں حملہ نہ کرنے کی وجہ ایران کے ساتھ جاری بات چیت کو قرار دیا ہے؛ اس فیصلے کو صرف انتخابی دباؤ کا نتیجہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
خطے کی صورتحال پر عالمی نظریں
ٹرمپ کے اعلان کے باوجود امریکا اور ایران کے درمیان صورتحال غیر یقینی ہے۔ امریکی صدر نے انتخابات سے پہلے حملہ نہ کرنے کی بات کی ہے، لیکن اقتصادی پابندیوں اور ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی برقرار رکھنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
اب توجہ اس بات پر ہوگی کہ جاری رابطوں کے نتیجے میں دونوں ممالک کسی قابلِ عمل سمجھوتے تک پہنچ پاتے ہیں یا نہیں۔ مذاکرات میں پیش رفت خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے یا مستقبل کی فوجی حکمت عملی کے بارے میں فی الحال کوئی یقینی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا
