آسٹریلوی کپتان پیٹ کمنز نے سابق ساتھی کرکٹر عثمان خواجہ کی آنے والی خودنوشت میں 2018 کے بال ٹیمپرنگ اسکینڈل سے متعلق ممکنہ انکشافات پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں اس کتاب کی اشاعت سے کوئی پریشانی نہیں اور خواجہ کو اپنے تجربات اور خیالات بیان کرنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق عثمان خواجہ نے چند ہفتے قبل پیٹ کمنز سے رابطہ کرکے اپنی کتاب کی اشاعت کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ یہ خودنوشت نومبر میں شائع ہونے کی توقع ہے، جس کے بعد آسٹریلوی کرکٹ کے ماضی کے ایک مسلے پر نئی بحث چھڑنے کا امکان ہے۔

سینڈ پیپر گیٹ تنازع کیا تھا؟

2018 میں جنوبی افریقا کے خلاف کیپ ٹاؤن ٹیسٹ کے دوران آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کو اس وقت شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا جب گیند کی حالت غیرقانونی طور پر تبدیل کرنے کا معاملہ سامنے آیا۔ اس واقعے کو کرکٹ کی تاریخ میں ’’سینڈ پیپر گیٹ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

اس تنازع میں اس وقت کے آسٹریلوی کپتان اسٹیو اسمتھ، نائب کپتان ڈیوڈ وارنر اور بلے باز کیمرون بینکرافٹ کے نام نمایاں طور پر سامنے آئے تھے۔ کیمرون بینکرافٹ کو میدان میں گیند پر سینڈ پیپر استعمال کرتے ہوئے دیکھا گیا، جبکہ بعد میں اسٹیو اسمتھ نے اعتراف کیا کہ اس منصوبے میں ٹیم کے قیادتی گروپ کا کردار تھا۔

اس واقعے کے بعد متعلقہ کھلاڑیوں کو پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا اور آسٹریلوی کرکٹ کو عالمی سطح پر شدید تنقید کا سامنا رہا۔ اس اسکینڈل نے ٹیم کے نظم و ضبط، قیادت اور کھیل کی ساکھ سے متعلق کئی سوالات کو جنم دیا تھا۔

پیٹ کمنز سمیت دیگر بولرز کا مؤقف

پیٹ کمنز، مچل اسٹارک، جوش ہیزل ووڈ اور نیتھن لائن مسلسل اس مؤقف کا اظہار کرتے رہے ہیں کہ انہیں گیند کی حالت تبدیل کرنے کے منصوبے کا پہلے سے علم نہیں تھا۔ ان چاروں کھلاڑیوں نے 2021 میں ایک مشترکہ بیان میں کہا تھا کہ انہیں اس معاملے کا پتا ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی تصاویر دیکھنے کے بعد چلا۔

کمنز کے مطابق عثمان خواجہ نے چند ہفتے قبل انہیں فون کرکے اپنی کتاب کی اشاعت کے بارے میں بتایا تھا۔ آسٹریلوی کپتان نے خواجہ کے حقِ اظہار کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی کہانی بتانے کے لیے آزاد ہیں۔

کمنز کا خیال ہے کہ اس معاملے کی تحقیقات کے دوران متعلقہ سوالات کے جوابات دیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق ٹیم ماضی کے اس تنازع سے آگے بڑھ چکی ہے اور اب ان کی توجہ آسٹریلوی کرکٹ کی قیادت اور آئندہ مقابلوں پر مرکوز ہے۔

جنوبی افریقا کا دورہ بھی اہمیت اختیار کر گیا

آسٹریلیا اور جنوبی افریقا کے درمیان ٹیسٹ سیریز بھی اس معاملے کے تناظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ 2018 کے کیپ ٹاؤن واقعے کے بعد جنوبی افریقا میں دونوں ٹیموں کے درمیان ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی کو ماضی کے تنازع سے جوڑ کر دیکھا جا رہا ہے۔

عثمان خواجہ کی خودنوشت کی اشاعت کے بعد یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا اس میں بال ٹیمپرنگ اسکینڈل کے حوالے سے کوئی نئی معلومات سامنے آتی ہیں یا کتاب میں ان کے زاتی ایکسپرٹیز اور پہلے سے معلوم واقعات پر زیادہ توجہ دی گئی ہے۔ اس وقت پیٹ کمنز نے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ انہیں کتاب کی اشاعت پر کوئی اعتراض نہیں اور وہ اس معاملے کو ماضی کا حصہ سمجھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *