چھوٹی صنعتوں کے لیے طویل المدتی قرض پر شرح سود 2 فیصد کرنے کا مطالبہ

کوئٹہ: چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو درپیش مالی مشکلات کے حل اور صنعتی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے فیڈریشن آف بلوچستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن (فباٹی) نے اہم تجاویز پیش کردی ہیں۔ فباٹی نے گورنر اسٹیٹ بینک کو ارسال کیے گئے خط میں مطالبہ کیا ہے کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے طویل المدتی قرضوں کی سالانہ شرح سود کم کرکے 2 فیصد مقرر کی جائے۔

فباٹی کے صدر رضا حسین کا کہنا ہے کہ ملک میں چھوٹی صنعتیں اس وقت بلند شرح سود، مہنگی توانائی اور بڑھتے ہوئے ٹیکسز سمیت متعدد مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان حالات میں صنعتی یونٹس کے لیے نئی مشینری کی خریداری، پیداواری صلاحیت میں اضافہ اور کاروباری سرگرمیوں کو جاری رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ چھوٹی صنعتوں کی بحالی اور انہیں مالی سہولت فراہم کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک کو خصوصی فکسڈ ریٹ فنانسنگ اسکیم متعارف کرانی چاہیے۔ ان کے مطابق کم شرح پر طویل المدتی قرضوں کی دستیابی سے صنعت کاروں کو اپنے کاروبار میں سرمایہ کاری کرنے اور پیداواری سرگرمیاں بڑھانے میں مدد مل سکتی ہے۔

فباٹی کی جانب سے گورنر اسٹیٹ بینک کو لکھے گئے خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بینکوں سے حاصل ہونے والی موجودہ مہنگی فنانسنگ چھوٹے صنعتی یونٹس کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ قرضوں کی بلند لاگت کے باعث صنعت کار مشینری کی اپ گریڈیشن اور کاروبار کو وسعت دینے کے فیصلے مؤخر کرنے پر مجبور ہیں۔

رضا حسین نے تجویز دی کہ جس طرح برآمدی شعبے کو نسبتاً کم شرح پر فنانسنگ کی سہولت فراہم کی جاتی ہے، اسی طرح چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے لیے بھی کم شرح سود پر خصوصی قرضوں کا انتظام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایس ایم ای سیکٹر ملکی معیشت میں روزگار اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتا ہے، اس لیے اس شعبے کو نظر انداز کرنا معاشی مشکلات میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔

فباٹی کے صدر کے مطابق چھوٹی اور درمیانے درجے کے صنعتی یونٹس کی بندش میں اضافے کے نتیجے میں روزگار کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر صنعتوں کو بروقت مالی سہولت نہ دی گئی تو بے روزگاری میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ چھوٹی صنعتوں کے لیے ایک جامع، مستقل اور قابل عمل فنانسنگ پالیسی مرتب کی جائے، جس کے تحت صنعت کاروں کو طویل مدت کے لیے کم شرح سود پر قرض فراہم کیا جاسکے۔

فباٹی کے مطابق ایس ایم ای سیکٹر سے متعلق تجاویز اور پالیسی معاملات پر وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کو بھی خط ارسال کیا گیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کو درپیش مالی اور پیداواری مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو دوبارہ فروغ دیا جاسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *