اخترصدیقی سینئر صحافی اسلام آباد

وزیراعلی خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو 4 اکتوبر کے اعلان کردہ لانگ مارچ سے روکنے کے لیے وفاقی حلقوں میں متعدد آپشنز پر بیک وقت غور جاری ہے اور اس حوالے سے قانونی و سیاسی مشاورت آخری مراحل میں بتائی جاتی ہے۔ پہلا آپشن 9 مئی کے ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں سزا کے ذریعے نااہلی ہے، دوسرا آپشن گورنر راج جبکہ تیسرا آپشن نیشنل ایمرجنسی کے نفاذ پر غور ہے۔اس سارے معاملے میں آئین وقانون کے مطابق کس کارروائی کے کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں اور اس سارے معاملے کو وفاق کیسے کنٹرول میں کرسکتا ہے ۔سہیل آفریدی کے خلاف وفاقی آئینی عدالت سمیت دیگر عدالتوں میں کم سے کم 5 مقدمات موجود ہیں جن کے ذریعے انھیں قابو میں لانے کی کوشش کی جاسکتی ہے ۔وفاقی حکومت کی قانونی ٹیم اس نکتے پر کام کر رہی ہے کہ 9 مئی واقعات میں درج دہشت گردی کے مقدمے میں سہیل آفریدی کو سزا دلوا کر نااہل قرار دیا جائے۔ ریڈیو پاکستان پر حملے کے مقدمے کو بنیاد بنا کر نااہلی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس میں رکاوٹ یہ ہے کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کو دو تہائی اکثریت حاصل ہے اور نااہلی کی صورت میں بھی نیا وزیراعلی عمران خان کی ہدایت پر ہی آئے گا۔دوسری جانب گورنر راج کا آپشن سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔ وفاقی وزیر امیر مقام نے پشاور میں میڈیا سے گفتگو میں واضح کہا ہے کہ سہیل آفریدی کے غیر قانونی اقدامات کے باعث گورنر راج کے تمام قانونی تقاضے پورے ہو چکے ہیں اور کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبے میں امن و امان کی صورتحال سب کے سامنے ہے اور موجودہ وزیراعلی کو حکومت چلانے کا تجربہ نہیں۔سہیل آفریدی نے ان دھمکیوں کو کھلے عام چیلنج کیا ہے۔ پشاور میں صحافیوں سے گفتگو اور امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے وہ اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے نااہل کیا گیا تو میں مزید خطرناک ہو جاؤں گا، لوگ سڑکوں پر نکل آئیں گے اور حکومت برقرار نہیں رہ سکے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ انہیں ہٹایا گیا تو متبادل کا نام عمران خان خود طے کریں گے۔

وزیراعلی نے وفاق کو مذاکرات کے لیے 7 روز کی مہلت دیتے ہوئے 4 اکتوبر کو اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کو اٹل قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق لانگ مارچ کے لیے گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا انتظام مکمل کر لیا گیا ہے اور 24 گھنٹے کی کال پر کارکن سڑکوں پر نکلنے کے لیے تیار ہیں۔ مینگورہ میں ریلی سے خطاب میں انہوں نے کہا تھا کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج ناممکن ہے، یہ لوگ مجھے نااہل کرنا چاہتے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ گورنر راج لگانا بھی آسان نہیں ہوگا کیونکہ ابتدائی طور پر دو ماہ اور پھر توسیع کے ذریعے چھ ماہ تک ہی اسے برقرار رکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد صوبے میں نئے سیاسی بحران کا خدشہ ہے۔ یہ بات بھی کسی حدتک واضح ہے کہ سہیل آفریدی کو ہٹانے کا فیصلہ کیاجاچکا ہے لیکن یہ اقدام فوری فائدے کے بجائے بڑے سیاسی اور انتظامی نقصان کا باعث بن سکتا ہے کیونکہ جو بھی نیا وزیراعلی آئے گا اسے عمران خان کے احکامات ماننا ہوں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *