دالتی حکم کے بعد CNN، MS NOW اور Politico کے صحافی وائٹ ہاؤس واپس پہنچ گئے

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور میڈیا اداروں کے درمیان جاری تنازع میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں وفاقی عدالت کے حکم کے بعد CNN، MS NOW اور Politico سے وابستہ صحافیوں کو دوبارہ وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت دے دی گئی۔

امریکی ڈسٹرکٹ جج ٹموتھی کیلی نے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے تینوں میڈیا اداروں کے صحافیوں کی رسائی محدود کرنے کے اقدام کو عارضی طور پر روک دیا تھا۔ عدالت نے حکم دیا کہ متعلقہ صحافیوں کے پریس پاسز بحال کیے جائیں اور انہیں وائٹ ہاؤس میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی اجازت دی جائے۔

عدالتی حکم کے مطابق پابندی پر 14 روز کے لیے عارضی روک لگائی گئی۔ جج کیلی کے مطابق صحافیوں کی رسائی ختم کرنے سے قبل انہیں مناسب قانونی طریقہ کار فراہم نہیں کیا گیا، جس پر عدالت نے آئینی حقوق سے متعلق خدشات کا اظہار کیا۔

صحافیوں کو ابتدا میں دوبارہ داخلے سے روک دیا گیا

دلچسپ امر یہ ہے کہ عدالت کی جانب سے حکم جاری ہونے کے باوجود جمعرات کی صبح CNN، MS NOW اور Politico کے بعض صحافیوں کو وائٹ ہاؤس میں داخلے کی اجازت نہیں ملی۔

تینوں میڈیا اداروں کی جانب سے عدالت کو اس صورت حال سے آگاہ کیا گیا اور فوری سماعت کی درخواست کی گئی۔ رپورٹس کے مطابق بعد میں وائٹ ہاؤس انتظامیہ نے پریس بیجز دوبارہ فعال کرنے کا عمل شروع کیا، جس کے بعد متعلقہ صحافیوں کو دوبارہ کمپلیکس میں داخل ہونے کی اجازت مل گئی۔

ٹرمپ انتظامیہ اور میڈیا اداروں میں تنازع

یہ معاملہ 18 ستمبر کو اس وقت شروع ہوا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے CNN، MS NOW اور Politico کو وائٹ ہاؤس سے دور رکھنے کا اعلان کیا۔ ٹرمپ نے ان اداروں کی بعض رپورٹنگ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غلط اور منفی قرار دیا تھا۔

بعد ازاں تینوں میڈیا اداروں نے عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ انہیں ان کے صحافتی کام اور رپورٹنگ کی بنیاد پر وائٹ ہاؤس تک رسائی سے محروم کیا گیا۔ عدالت میں مقدمے کے دوران انتظامیہ نے پابندی کے لیے قومی سلامتی سے متعلق دلائل بھی پیش کیے، تاہم جج کیلی نے ان دلائل پر سوالات اٹھائے۔

عدالت کا موجودہ حکم عارضی نوعیت کا ہے اور اس کا اطلاق 14 دن کے لیے کیا گیا ہے۔ اس دوران مقدمے کی مزید قانونی کارروائی جاری رہے گی اور عدالت بعد میں اس معاملے پر مزید فیصلہ کرسکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں اہم سفارتی سرگرمیوں کے دوران پیش رفت

صحافیوں کی رسائی کی بحالی ایسے وقت میں ہوئی جب وائٹ ہاؤس میں اہم سفارتی سرگرمیاں بھی جاری تھیں۔ چینی صدر شی جن پنگ کی آمد سے متعلق پروگرام کی کوریج بھی اسی دوران متوقع تھی۔

میڈیا پابندی کے باعث وائٹ ہاؤس کے ٹیلی وژن پریس پول کے معمول کے انتظامات متاثر ہوئے تھے۔ بڑے امریکی ٹی وی نیٹ ورکس نے بھی کوریج کے انتظامات کے حوالے سے تحفظات ظاہر کیے تھے۔ صحافیوں کی دوبارہ رسائی کے بعد وائٹ ہاؤس کی معمول کی میڈیا کوریج بحال کرنے کی کوششیں شروع ہوئیں۔

مقدمہ مزید آگے بڑھنے کا امکان

وفاقی عدالت کا تازہ حکم فوری طور پر صحافیوں کی وائٹ ہاؤس رسائی بحال کرنے تک محدود ہے۔ مقدمے میں CNN، MS NOW اور Politico کی جانب سے اٹھائے گئے آئینی نکات پر مزید کارروائی ہونا باقی ہے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس انتظامیہ کے لیے بھی قانونی راستے کھلے ہیں، جبکہ عدالت نے آئندہ کارروائی کے لیے مقررہ مدت کے اندر مزید قانونی درخواستیں جمع کرانے کی گنجائش رکھی ہے۔ یوں ٹرمپ انتظامیہ اور تینوں میڈیا اداروں کے درمیان وائٹ ہاؤس پریس رسائی کا تنازع آئندہ دنوں میں بھی امریکی عدالتوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *