پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں نہ کرنے کی یقین دہانی، اسلام آباد ہائیکورٹ نے کیس نمٹا دیا
اسلام آباد: اسلام آباد پولیس نے ہائیکورٹ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں کو ہراساں نہیں کیا گیا اور آئندہ بھی ان کے خلاف ایسی کارروائی نہیں کی جائے گی۔ پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ کسی فرد کے خلاف ایف آئی آر درج ہونے کی صورت میں کارروائی قانون کے مطابق کی جاتی ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں پی ٹی آئی رہنماؤں ملک عامر علی، شعیب شاہین اور دیگر کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ درخواست میں لانگ مارچ سے قبل مبینہ ہراسانی اور گرفتاریوں کے خدشات سے متعلق عدالت سے رجوع کیا گیا تھا۔ اس معاملے پر عدالت نے پولیس حکام سے وضاحت طلب کی تھی۔
سماعت کے دوران عدالتی حکم پر ایس ایس پی آپریشنز قاضی علی رضا اور ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ عدالت میں پیش ہوئے۔ پولیس حکام نے اپنے مؤقف میں کہا کہ درخواست گزاروں کو پولیس کی جانب سے ہراساں نہیں کیا گیا اور نہ ہی مستقبل میں انہیں ہراساں کیا جائے گا۔
پولیس حکام کا کہنا تھا کہ اگر کسی شخص کے خلاف مقدمہ درج ہو تو اس کے خلاف کارروائی قانون اور متعلقہ قانونی طریقہ کار کے تحت کی جاتی ہے۔ اس موقع پر عدالت نے پولیس کی جانب سے دی گئی یقین دہانی کو ریکارڈ کا حصہ بنایا۔
واضح رہے کہ اس سے قبل 16 ستمبر کو اسلام آباد ہائیکورٹ نے 27 ستمبر کے لانگ مارچ سے قبل ملک عامر علی، شعیب شاہین اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کو ہراساں یا گرفتار نہ کرنے کی ہدایت کی تھی اور ایس ایس پی آپریشنز کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تھا۔
بعد ازاں پولیس حکام کی جانب سے آئندہ ہراساں نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ نے درخواست نمٹا دی۔
