دنیا کے اس ترقی یافتہ دور میں جہاں ہر طرف ترقی کے نت نئے منصوبے آزمائے جا رہے ہیں اور دنیا ترقی کی عروج پر پہنچ رہی ہے، ایسے میں اےآئی کا کردار بھی انتہائی حیران کن ہے۔ کہیں کہیں پر اگر اےآئی انسانی مددگار ثابت ہو رہا ہے، تو کہیں پر یہ انتہائی خطرناک اور زہرِ قاتل ثابت ہو رہا ہے۔ ایک طرف انسان اپنی زندگی کو آسان بنانے کے لیے نت نئی چیزیں ایجاد کر رہا ہے اور دوسری طرف انہی چیزوں کے منفی اثرات بھی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔
اس کی زندہ مثال گزشتہ روز بہاولپور کے سیکنڈ ایئر کے سترہ سالہ طالب علم کا اپنے والد کو قتل کرنے کے لیے اےآئی سے مشاورت حاصل کرنا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق طالب علم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ اےآئی اگر کہیں کہیں کچھ شعبوں میں انسانوں کی مددگار ثابت ہو رہا ہے تو وہاں پر یہ دشمن کا زہر بن کر دنیا میں پھیل رہا ہے اور انسانیت کے لیے ایک ناسور بن چکا ہے۔
ایک سترہ سالہ طالب علم، جو ابھی سیکنڈ ایئر میں پڑھ رہا ہے، اگر اپنے والد کے ساتھ ناخوشگوار تعلقات کی وجہ سے انہیں قتل کرنے کے لیے اےآئی کو بطور مددگار استعمال کرنا چاہے تو یہ انتہائی خطرناک اور پریشان کن بات ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کی نوبت کہاں تک پہنچ چکی ہے۔ پہلے انسان اپنے مسائل کے حل کے لیے اپنے بڑوں سے، اپنے اساتذہ سے یا اپنے اردگرد موجود لوگوں سے مشورہ کیا کرتا تھا، لیکن اب اگر یہی مشاورت ایسے معاملات میں بھی اےآئی سے ہونے لگے تو پھر یہ بات واقعی سوچنے کی ہے کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں۔
یہاں تک کہ گزشتہ روز بی بی سی نے ایک رپورٹ باقاعدہ اس پر شائع کی کہ دس سال کے بعد گویا کہا جا رہا ہے کہ اےآئی انسانیت کو ہی ختم کر دے گی۔ بظاہر یہ دعویٰ تو اگرچہ معقول نہیں ہے، انتہائی کمزور ہے۔ انسانیت کو تو ختم نہیں کر سکتی لیکن کم از کم انسانوں کے مسائل زیادہ کر سکتی ہے۔ خاص طور پر انسان اس وقت جن جن شعبوں میں کام کر رہے ہیں، جہاں ان کی ضرورت ہے، اےآئی نے اس ضرورت کو تقریباً ختم کر دیا ہے اور مزید اس کے خاتمے کے لیے اسباب پیدا ہو رہے ہیں
یہ نقطہ بھی بظاہر انسانی کاموں کے حوالے سے انتہائی پریشان کن ہے، جس سے کروڑوں انسان متاثر ہو سکتے ہیں۔ آج انسان مختلف شعبوں میں کام کر رہا ہے، اپنی محنت سے روزگار حاصل کر رہا ہے، اپنے بچوں کا پیٹ پال رہا ہے، اپنے گھر کا نظام چلا رہا ہے، لیکن اگر آنے والے وقت میں ان کاموں کے لیے انسان کی ضرورت ہی کم ہوتی چلی گئی تو پھر اس کا اثر انسانوں پر ہی پڑے گا۔ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ اےآئی کو بالکل استعمال نہ کیا جائے۔ بلا شبہ کہیں کہیں پر اگر اس کی ضرورت پڑ سکتی ہے تو اسے مددگار کے طور پر ضرور استعمال کیا جا سکتا ہے۔ جہاں ضرورت ہو وہاں اس سے مدد لی جا سکتی ہے، جہاں کسی کام کو آسان بنانے کے لیے اس کی ضرورت ہو وہاں اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے، لیکن استعمال کرنے والے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اس حوالے سے خود بھی کچھ شدبدسے واقف ہو۔
اگر کسی حوالے سے مدد طلب کی جا رہی ہے تو اس فرد کو اس حوالے سے خود بھی کچھ معلومات لازمی معلوم ہونی چاہیے۔ صرف اور صرف اےآئی کے اوپر دارومدار کرنا یا اسی پر اکتفا کرنا ہرگز فائدے کا سودا نہیں ہے۔ اگر کسی شخص کو کسی موضوع کے بارے میں کچھ بھی معلوم نہیں اور وہ مکمل طور پر اےآئی کے اوپر دارومدار کر رہا ہے تو پھر وہ جو کچھ حاصل کرے گا، اسے سمجھنے اور پرکھنے کی صلاحیت بھی اس کے پاس نہیں ہوگی۔جہاں جہاں ضرورت محسوس ہو اسے استعمال کیا جائے لیکن اسے خود بھی اس حوالے سے کچھ معلومات حاصل ہونا اس سے پہلے بہت ضروری ہے، ورنہ یہ بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اےآئی سے مدد لینا اپنی جگہ لیکن اپنی معلومات کو ختم کر دینا اور اپنی سوچ کو ایک طرف رکھ دینا کسی طرح بھی فائدے کا سودا نہیں ہے۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ جب کوئی چیز انسانیت کے فائدے کے لیے آتی ہے، اس پہ تجربات ہوتے ہیں تو ہم اس چیز کو خاص مقصد سے ہٹا کر ہر شعبے میں آزمانا شروع کر دیتے ہیں، جس کا خمیازہ یہ بھگتنا پڑتا ہے کہ اس کے منفی اثرات دور دور تک پھیل جاتے ہیں، جو ہمارے لیے راستوں میں روڑے اٹکانے کے برابر ہوتے ہیں۔
ہم کسی چیز کو صرف اس لیے استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے آسانی پیدا کر رہی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ وہ آسانی ہماری ضرورت بن جاتی ہے اور اس کے بعد انسان خود اپنے کام کے لیے اس چیز کا محتاج ہو جاتا ہے۔ یہی معاملہ اےآئی کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر ہر کام کے لیے، ہر مسئلے کے لیے، ہر معاملے میں اور ہر فیصلے کے لیے اےآئی سے مدد لی جانے لگے تو پھر انسان کی اپنی معلومات، اپنی سوچ اور اپنے تجربے کی کیا حیثیت باقی رہ جائے گی۔منفی اثرات کی بات تو یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ جب ایک نوجوان طالب علم صرف سترہ سال کی عمر میں، جب وہ پڑھ رہا ہو سیکنڈ ایئر میں، اور وہ صرف والد کے ساتھ ناخوشگوار تعلقات کی وجہ سے اسے قتل کرنے کے لیے اےآئی کو بطور مددگار استعمال کرنا چاہے تو یہ انتہائی خطرناک اور پریشان کن بات ہے۔ اور یہ آہستہ آہستہ معاشرے میں مسائل بگاڑنے کا سبب بھی بن رہا ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ اے آئی ہر معاملے میں انسان کا مددگار نہیں ہو سکتا۔ کہیں یہ مددگار ثابت ہو سکتا ہے اور کہیں یہی چیز نقصان دہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ اس لیے استعمال کرنے والے کو خود بھی اس حوالے سے معلومات رکھنا ضروری ہے۔ اگر کسی چیز کا استعمال کیا جا رہا ہے تو اس کے فائدے اور نقصان دونوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
ہمیں یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ جس چیز کو ہم اپنی آسانی کے لیے استعمال کر رہے ہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ وہی چیز ہماری ضرورت کو ختم کرنے کا سبب بن رہی ہو
تو ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں تک ضرورت ہو، جس مقصد کے لیے ہلکی پھلکی مدد کی ضرورت ہو تو وہاں تو اسے ضرورت کے طور پر استعمال کیا جائے، لیکن ہر شعبے میں اپنے ذاتی معاملات میں اسے اس طرح استعمال کرنا، اسے اپنا مددگار بنانا انتہائی گھاٹے کا سودا ہے۔ یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اےآئی سے مدد لی جا سکتی ہے لیکن اپنی ذمہ داری اس کے حوالے نہیں کی جا سکتی۔ انسان کو خود بھی سوچنا ہوگا، خود بھی سمجھنا ہوگا اور خود بھی فیصلہ کرنا ہوگا۔
اس سے ہمیں بچنا ہوگا اور نہ صرف خود بچنا ہوگا بلکہ اس کے منفی اثرات سے پورے معاشرے کو آگاہ کرنا ہوگا، جو ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے۔ ہمیں اپنے بچوں، اپنے نوجوانوں اور اپنے اردگرد موجود لوگوں کو بھی اس حوالے سے آگاہ کرنا ہوگا کہ اےآئی کو کس مقصد کے لیے استعمال کرنا ہے اور کس مقصد کے لیے نہیں کرنا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس چیز کو سمجھیں کہ دنیا ترقی کر رہی ہے، نت نئی چیزیں سامنے آ رہی ہیں، اےآئی بھی اسی ترقی کا ایک حصہ ہے، لیکن ہر ترقی کے ساتھ اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ اگر ہم نے اس کے استعمال میں احتیاط نہ کی تو یہ مسائل کو کم کرنے کے بجائے مسائل میں اضافے کا سبب بھی بن سکتی ہے۔
