بھارت میں نوجوانوں کا روزگار اور تعلیم کا بحران شدت اختیار کر گیا
اسلام آباد: بھارت میں نوجوانوں کو درپیش بے روزگاری اور تعلیم سے متعلق مسائل ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ مختلف رپورٹس اور سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک کے متعدد اضلاع میں بڑی تعداد میں نوجوان نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، نہ روزگار سے وابستہ ہیں اور نہ ہی کسی پیشہ ورانہ تربیت کا حصہ ہیں۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق 2025 کے ضلعی سطح کے لیبر فورس سروے میں ملک کے تقریباً 250 اضلاع میں 15 سے 29 سال کی عمر کے 25 فیصد سے زائد نوجوانوں کے تعلیم، روزگار یا تربیت سے باہر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ یہ صورتحال خاص طور پر ان ریاستوں کے متعدد اضلاع میں سامنے آئی ہے جہاں نوجوانوں کی بڑی آبادی موجود ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس صورتحال کو ’’این ای ای ٹی‘‘ یعنی ایسے نوجوانوں کے زمرے میں شامل کیا جاتا ہے جو نہ کسی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم ہوں، نہ ملازمت کر رہے ہوں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام سے وابستہ ہوں۔ بعض معاملات میں اس کی وجوہات میں مناسب روزگار کی عدم دستیابی، گھریلو ذمہ داریاں اور ملازمت کی تلاش ترک کرنا بھی شامل ہیں۔
گریجویٹس کے لیے روزگار کا حصول بڑا چیلنج
بھارت میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کو بھی ملازمت کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ’’اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026‘‘ رپورٹ کے مطابق 2023 میں 20 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 6 کروڑ 30 لاکھ گریجویٹس میں سے 1 کروڑ 10 لاکھ بے روزگار تھے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 15 سے 25 سال کی عمر کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 40 فیصد جبکہ 25 سے 29 سال کے افراد میں یہ شرح تقریباً 20 فیصد رہی۔ اسی رپورٹ کے مطابق بے روزگار گریجویٹس میں سے ملازمت حاصل کرنے والوں کی ایک محدود تعداد ہی ایک سال کے اندر مستقل تنخواہ دار ملازمت حاصل کر پاتی ہے۔
کروڑوں نوجوان تعلیم اور روزگار سے باہر
اس سے قبل بھارتی حکومت کے تھنک ٹینک نیتی آیوگ کی رپورٹ میں بھی 15 سے 29 سال کی عمر کے تقریباً 8 کروڑ 70 لاکھ نوجوانوں کے تعلیم، روزگار یا تربیت سے باہر ہونے کی نشاندہی کی گئی تھی۔ رپورٹ میں انہیں ’’این ای ای ٹی یوتھ‘‘ کے زمرے میں شامل کیا گیا ہے۔ تاہم بھارتی حکومت نے واضح کیا ہے کہ ایسے تمام افراد کو براہِ راست بے روزگار قرار دینا درست نہیں، کیونکہ اس گروپ میں مختلف حالات سے دوچار نوجوان شامل ہیں۔
تعلیم اور روزگار کے درمیان موجود خلا بھی بھارت کے نوجوانوں کے لیے ایک اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ مختلف مطالعات میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، تاہم تعلیم سے عملی مہارت اور روزگار تک منتقلی اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔
بھارت کی نوجوان آبادی کو ملک کی معاشی ترقی کے لیے اہم اثاثہ سمجھا جاتا ہے، لیکن روزگار کے محدود مواقع، تعلیم اور مارکیٹ کی ضروریات میں فرق اور تربیتی مواقع کی کمی اس صلاحیت کے مؤثر استعمال میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
رپورٹس کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی نوجوانوں کے لیے تعلیم مکمل کرنے کے بعد مناسب اور مستقل روزگار تک رسائی ایک اہم معاشی و سماجی چیلنج ہے، جس کے اثرات مستقبل کی افرادی قوت اور معاشی مواقع پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
