جامعہ کراچی پروفیسر تشدد کیس؛ معافی کے بعد فریقین میں صلح ہوگئی

کراچی: جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف خان ساقی پر تشدد کے مقدمے میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں کیس میں نامزد ملزم کونین شاہ نے پروفیسر عارف خان ساقی سے ملاقات کرکے اپنے طرزِ عمل پر معذرت کی، جس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان صلح ہوگئی۔

ذرائع کے مطابق ملزم کونین علی شاہ گزشتہ شب اپنے سسر کے ہمراہ پروفیسر عارف خان ساقی کی رہائش گاہ پہنچے، جہاں انہوں نے پروفیسر سے ملاقات کی اور گزشتہ واقعے پر معذرت کی۔ ملاقات کے دوران ملزم کی جانب سے معافی مانگنے پر پروفیسر عارف خان ساقی نے بھی درگزر کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیا۔

اس ملاقات کے نتیجے میں تشدد کے معاملے پر دونوں جانب سے صلح کا راستہ اختیار کیا گیا۔ پروفیسر عارف خان ساقی کے مطابق کونین علی شاہ کے اہل خانہ کی جانب سے بھی اس معاملے کے بعد رابطہ رکھا جاتا رہا ہے اور ملزم کے والد بھی وقتاً فوقتاً ان کے گھر آتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اب معاملہ باہمی طور پر طے پا گیا ہے اور فریقین کے درمیان صلح ہوچکی ہے۔

پروفیسر عارف خان ساقی نے مزید بتایا کہ واقعے کے دوران ان کے بھتیجے کی گاڑی کو جو نقصان پہنچا تھا، اس کا ازالہ بھی کر دیا گیا ہے۔ یوں واقعے سے متعلق مالی نقصان کے معاملے کو بھی حل کر لیا گیا ہے، جبکہ فریقین کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی ختم کرنے کے لیے باہمی طور پر مفاہمت کی گئی ہے۔

ملاقات میں معافی اور معاملے کا حل

ذرائع کے مطابق گزشتہ رات ہونے والی ملاقات میں ملزم کونین شاہ نے پروفیسر عارف خان ساقی سے معافی طلب کی۔ اس موقع پر دونوں جانب سے معاملے کو مزید آگے بڑھانے کے بجائے باہمی طور پر ختم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔

پروفیسر عارف خان ساقی کا کہنا ہے کہ ملزم کی جانب سے معذرت کے بعد انہوں نے اسے معاف کر دیا۔ ان کے مطابق کونین شاہ کے والد کی جانب سے بھی پہلے سے رابطہ رکھا جاتا رہا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاندان کی سطح پر بھی اس معاملے کو حل کرنے کی کوشش جاری تھی۔

صلح کے بعد واقعے سے متعلق ایک اہم پیش رفت یہ بھی سامنے آئی ہے کہ پروفیسر کے بھتیجے کی گاڑی کو پیش آنے والے نقصان کا ازالہ کر دیا گیا ہے۔ اس طرح تشدد کے واقعے کے ساتھ جڑے مالی نقصان کے معاملے کو بھی نمٹا دیا گیا ہے۔

ملزم ضمانت پر رہا ہے

واضح رہے کہ پروفیسر عارف خان ساقی پر تشدد کے الزام میں نامزد ملزم کونین شاہ اس وقت عدالت سے ضمانت پر ہے۔ واقعے کے بعد معاملہ قانونی کارروائی تک پہنچا تھا، تاہم اب ملزم کی جانب سے پروفیسر سے ملاقات اور معافی طلب کیے جانے کے بعد فریقین میں صلح ہوگئی ہے۔

جامعہ کراچی کے پروفیسر عارف خان ساقی سے متعلق پیش آنے والے اس واقعے نے اس وقت توجہ حاصل کی تھی جب تشدد کے معاملے پر قانونی کارروائی شروع ہوئی۔ بعد ازاں دونوں خاندانوں کے درمیان رابطوں اور ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا، جس کے نتیجے میں معاملہ افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی گئی۔

تازہ پیش رفت کے مطابق ملزم کونین شاہ نے اپنے سسر کے ہمراہ پروفیسر عارف خان ساقی کی رہائش گاہ پر پہنچ کر معذرت کی، جسے پروفیسر نے قبول کرتے ہوئے انہیں معاف کر دیا۔ اس کے بعد دونوں فریقین کے درمیان صلح ہوگئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *