یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان لڑائی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے، جس کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران درجنوں افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ تازہ جھڑپوں نے نہ صرف یمن میں جاری تنازع کو مزید سنگین کردیا ہے بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب کے اہم بحری راستے کی سلامتی سے متعلق خدشات میں بھی اضافہ کیا ہے۔
ریاض سے موصولہ اطلاعات کے مطابق یمنی حکومت کے ایک عہدیدار نے بتایا ہے کہ جنوب مغربی علاقوں میں حوثیوں کی جانب سے کیے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 23 حکومتی فوجی مارے گئے۔ دوسری جانب حوثی فوجی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ سعودی فضائی حملوں اور زمینی جھڑپوں کے دوران ان کے 40 جنگجو ہلاک ہوئے۔ یہ اعداد و شمار دونوں متحارب فریقوں کے اپنے ذرائع سے سامنے آئے ہیں، اس لیے ان کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
یمن میں حالیہ کشیدگی کے دوران شہری آبادی بھی متاثر ہوئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق طائف کے علاقے میں ایک ڈرون کو فضا میں روکنے کے بعد اس کا ملبہ گرنے سے ایک شخص جاں بحق جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔ سعودی حکام کے مطابق ملبے سے قریبی عمارتوں اور گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ سعودی عرب میں حالیہ کشیدگی کے دوران شہری ہلاکت کا اہم واقعہ قرار دیا جارہا ہے۔
دوسری جانب حوثیوں کے زیر انتظام ذرائع ابلاغ نے یمن کے مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران شہریوں کے جانی نقصان کا دعویٰ کیا ہے۔ حوثی میڈیا کے مطابق تعز میں سعودی حمایت یافتہ فورسز کے حملوں میں تین بچے ہلاک ہوئے، تاہم اس دعوے کی بھی آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
تازہ لڑائی کے باعث یمن میں انسانی بحران بھی مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق حالیہ تنازع کے دوران ایک لاکھ سے زائد افراد نقل مکانی پر مجبور ہوچکے ہیں۔ بڑی تعداد میں خاندان محفوظ مقامات کی تلاش میں اپنے گھروں سے نکل رہے ہیں، جبکہ جنگ زدہ علاقوں میں خوراک، پانی، رہائش اور طبی سہولیات کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں کشیدگی
یمن کی موجودہ صورتحال کا ایک اہم پہلو بحیرہ احمر اور باب المندب کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال ہے۔ حوثی فورسز نے حالیہ دنوں میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط کی ہے، جس کے باعث دنیا کے اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہونے والے باب المندب کے حوالے سے عالمی سطح پر تشویش بڑھ گئی ہے۔
باب المندب بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والا اہم سمندری راستہ ہے اور عالمی تجارت خصوصاً توانائی کی ترسیل کے لیے اس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تجارتی جہاز رانی اور تیل کی عالمی ترسیل پر ممکنہ اثرات کے خدشات بھی سامنے آرہے ہیں۔
حوثیوں کا سعودی عرب سے مطالبہ
حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے اپنے ایک خطاب میں سعودی عرب سے حملے روکنے اور یمن پر عائد ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز کی جانب سے حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور دونوں فریق ایک دوسرے پر حملوں کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔
حوثیوں کی جانب سے سعودی ایف 15 جنگی طیارہ مار گرانے کا دعویٰ بھی سامنے آیا ہے۔ حوثی ذرائع نے اس حوالے سے ویڈیو اور ملبے کی تصاویر جاری کرنے کا دعویٰ کیا، تاہم طیارہ گرائے جانے کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہوسکی۔
یمن میں موجودہ لڑائی ایسے وقت میں دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے جب 2022 میں قائم ہونے والی نسبتاً پرسکون صورتحال پہلے ہی کمزور ہوچکی تھی۔ حالیہ ہفتوں میں حوثی فورسز کی پیش قدمی اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کی جوابی کارروائیوں نے تنازع کو ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے کی فوجی کشیدگی میں تبدیل کردیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یمن میں لڑائی کا دائرہ وسیع ہونے کی صورت میں اس کے اثرات صرف مقامی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ بحیرہ احمر، باب المندب، خلیجی توانائی کی ترسیل اور عالمی بحری تجارت بھی متاثر ہوسکتی ہے۔ موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا خدشہ یہی ہے کہ بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیاں خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتی ہیں۔
