سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر حوثیوں کا تازہ حملہ، میزائل اور ڈرون داغے گئے
ریاض: یمن میں سرگرم حوثی جنگجوؤں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں کو ایک مرتبہ پھر میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔ سعودی حکام کے مطابق حملوں میں خمیس مشیط، ابہا اور جازان کی سمت متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون بھیجے گئے۔
سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے تازہ حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے مختلف جنوبی علاقوں کی طرف متعدد میزائل اور بغیر پائلٹ طیارے داغے گئے۔ ان حملوں کا مقصد سعودی سرزمین اور اہم تنصیبات کو نشانہ بنانا تھا۔
اتحادی افواج کے ترجمان کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں حملوں کے نتیجے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔ تاہم سعودی اتحاد نے واضح کیا ہے کہ ملک کی خودمختاری، شہری آبادی اور اہم قومی تنصیبات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں گے اور حملوں کا مناسب جواب دینے کا حق محفوظ ہے۔
سعودی عرب پر یہ تازہ حملے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان مسلح جھڑپوں میں دوبارہ شدت دیکھی جارہی ہے۔ یمن میں جاری کشیدگی کے باعث خطے میں پہلے سے موجود سکیورٹی خدشات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔
حالیہ دنوں کے دوران حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں واقع توانائی کے مراکز اور فوجی نوعیت کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کی کوششیں بھی کی گئی ہیں۔ دوسری جانب سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز حوثیوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
یمن کی تازہ صورتحال نے خطے کی اہم بحری گزرگاہوں کے تحفظ سے متعلق بھی تشویش پیدا کردی ہے۔ بالخصوص بحیرہ احمر اور باب المندب میں تجارتی اور بحری سرگرمیوں کے حوالے سے سکیورٹی خدشات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے، کیونکہ یہ راستے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم تصور کیے جاتے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یمن میں گزشتہ ہفتے سے جاری نئی لڑائی کے دوران 500 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔ تاہم مختلف فریقوں کی جانب سے ہلاکتوں کے بارے میں پیش کیے جانے والے اعداد و شمار میں فرق پایا جاتا ہے اور ان اعداد و شمار کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔
یمن میں بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے تناظر میں سعودی عرب کے خلاف حوثیوں کے تازہ حملوں نے خطے کی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آنے والے دنوں میں فریقین کی جانب سے کیے جانے والے ممکنہ اقدامات کو مشرق وسطیٰ کی مجموعی سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔
