ایرانی فوج کی عسکری حکمتِ عملی میں بڑی تبدیلی، دفاع سے جارحانہ پالیسی کی طرف پیش رفت

ایرانی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ جنگی تجربات کے نتیجے میں اس کے عسکری نظریے میں نمایاں تبدیلی آئی ہے اور دفاع پر مبنی حکمتِ عملی اب زیادہ فعال اور جارحانہ انداز اختیار کر رہی ہے۔

ایرانی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل محمد اکرمنیہ کے مطابق یہ تبدیلی کسی ایک فیصلے کا نتیجہ نہیں بلکہ حالیہ تنازعات کے دوران بتدریج سامنے آئی۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران نے گزشتہ 12 روزہ اور 40 روزہ جنگوں کے دوران اپنے عسکری طریقۂ کار کا ازسرِنو جائزہ لیا۔

ایرانی فوجی نظریے میں تبدیلی کیوں آئی؟

محمد اکرمنیہ نے سرکاری خبر رساں ادارے سے گفتگو میں بتایا کہ ایران کا عسکری نظریہ ماضی میں بنیادی طور پر دفاعی نوعیت کا تھا۔ تاہم، حالیہ جنگوں کے دوران فوج نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ صرف دفاعی ردعمل کافی نہیں، اس لیے حکمتِ عملی میں زیادہ فعال اقدامات کو شامل کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق موجودہ سوچ میں دشمن کے حملے کا فوری اور وسیع جواب دینے کے ساتھ ساتھ بعض حالات میں پیشگی کارروائی کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔

تیز ردعمل پر زیادہ توجہ

ایرانی فوجی ترجمان کے بیان کے مطابق نئی حکمتِ عملی کا ایک اہم پہلو کسی بھی ممکنہ حملے کے خلاف تیز رفتار ردعمل ہے۔ اس کا مقصد مخالف فریق کو یہ پیغام دینا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف کارروائی کی صورت میں جواب محدود نہیں رہے گا۔

یہ تبدیلی ایران کی مجموعی دفاعی پالیسی میں ایک اہم پیش رفت سمجھی جا سکتی ہے، کیونکہ اس میں محض حملہ روکنے کے بجائے خطرے کو پہلے سے ناکام بنانے کی سوچ بھی شامل ہونے کا اشارہ دیا گیا ہے۔

امریکی فوجیوں سے متعلق انعامی منصوبہ

محمد اکرمنیہ نے اپنی گفتگو میں ایک ایسے منصوبے کا بھی حوالہ دیا جو ان کے بقول ایرانی فوج کی تبدیل ہوتی حکمتِ عملی کی مثال ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر امریکی فوجی ایرانی علاقے میں زمینی دراندازی کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں ہلاک یا گرفتار کرنے والوں کے لیے انعامات کی پیشکش سے متعلق منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایران ممکنہ زمینی کارروائی کے خطرے کو کس قدر سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے اور ایسے منظرنامے کے لیے پہلے سے ردعمل کی تیاری پر توجہ دے رہا ہے۔

خطے کی کشیدہ صورتحال میں اہم اعلان

ایرانی فوج کی عسکری حکمتِ عملی میں ممکنہ تبدیلی کا اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی سکیورٹی چیلنجز اور علاقائی تنازعات کا سامنا کر رہا ہے۔

دفاعی حکمتِ عملی سے زیادہ جارحانہ اور پیشگی ردعمل کی طرف منتقلی نہ صرف ایران کی فوجی پالیسی بلکہ خطے کے مجموعی سکیورٹی ماحول پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔ بالخصوص امریکا اور ایران کے درمیان موجود کشیدگی کے تناظر میں ایسے بیانات کو عالمی سطح پر بھی اہمیت حاصل ہو سکتی ہے۔

اصل توجہ عملی پالیسی پر ہوگی

اگرچہ ایرانی فوج کے ترجمان نے عسکری نظریے میں تبدیلی کی بات کی ہے، تاہم اس پالیسی کا عملی دائرہ کار اور مستقبل میں اس کے تحت کس نوعیت کی کارروائیاں کی جائیں گی، یہ آنے والے حالات میں زیادہ واضح ہوگا۔

فی الحال ایرانی فوج کا مؤقف یہ ہے کہ حالیہ جنگوں نے اس کے عسکری اندازِ فکر کو تبدیل کیا ہے اور مستقبل میں ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے زیادہ تیز، وسیع اور فعال ردعمل کو حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *