ایرانی صدر: ایران اپنے حقوق کے لیے سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ایران اپنے قومی حقوق کے حصول، خودمختاری کے تحفظ اور موجودہ تنازعات کے حل کے لیے جنگ اور فوجی تصادم کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران مسائل کے پرامن حل کے لیے بات چیت کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے، تاہم قومی مفادات اور بنیادی حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ ایران کسی بھی دباؤ یا طاقت کے استعمال کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنے حقوق کا دفاع کرنے کی صلاحیت اور عزم رکھتا ہے، لیکن اس کے ساتھ ساتھ مذاکرات اور سفارتی ذرائع کے ذریعے اختلافات ختم کرنے کی کوششوں کو بھی اہمیت دیتا ہے۔

ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ جنگ کسی بھی مسئلے کا مستقل حل نہیں، جبکہ مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو کم کرنے اور قابل قبول راستہ تلاش کرنے کے امکانات پیدا کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق ایران خطے میں کشیدگی میں اضافے کا خواہاں نہیں اور ایسے اقدامات کی حمایت کرتا ہے جن کے ذریعے تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جا سکے۔

مسعود پزشکیان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مذاکرات اس وقت ہی نتیجہ خیز ثابت ہو سکتے ہیں جب ان میں برابری، باہمی احترام اور سنجیدگی کو ملحوظ خاطر رکھا جائے۔ ان کے مطابق اگر کسی فریق کی جانب سے دھمکی، دباؤ یا یک طرفہ مطالبات کے ذریعے مذاکرات کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جائے تو ایسی بات چیت مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتی۔

ایرانی صدر کے مؤقف کے مطابق ایران اپنے قومی حقوق اور خودمختاری کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ تہران کا کہنا ہے کہ ملکی سلامتی اور قومی مفادات کا تحفظ بنیادی ترجیح ہے، تاہم ان مقاصد کے حصول کے لیے سفارتی ذرائع کو استعمال کرنے کے دروازے بند نہیں کیے جائیں گے۔

مسعود پزشکیان نے اشارہ دیا کہ ایران بین الاقوامی سطح پر پیدا ہونے والے اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوششوں کو جاری رکھنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق سفارت کاری ایک ایسا راستہ ہے جس کے ذریعے فریقین اپنے اختلافات کو جنگ اور فوجی کارروائی کے بجائے مذاکرات کی میز پر زیر بحث لا سکتے ہیں۔

ایرانی صدر کا یہ مؤقف ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے کی صورتحال میں مسلسل کشیدگی دیکھی جا رہی ہے اور امریکہ و ایران کے درمیان مختلف اہم معاملات پر سفارتی رابطوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ ان رابطوں میں جنگ کے خاتمے، کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات بھی اہمیت رکھتے ہیں۔

آبنائے ہرمز عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے انتہائی اہم سمندری راستہ تصور کیا جاتا ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ عرب کے درمیان واقع یہ راستہ عالمی سطح پر تیل اور دیگر توانائی کے وسائل کی ترسیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی وجہ سے آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی کشیدگی کا اثر صرف خطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ عالمی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی پڑ سکتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں ایران کی جانب سے سفارت کاری کو ترجیح دینے کا بیان اس اعتبار سے اہم قرار دیا جا رہا ہے کہ خطے میں جاری کشیدگی کو کم کرنے کے لیے سیاسی اور سفارتی راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ اگر فریقین مذاکرات کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو اس سے نہ صرف خطے میں امن و استحکام کی صورتحال بہتر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر پیدا ہونے والی بے یقینی میں بھی کمی آنے کا امکان ہے۔

ایران کی طرف سے سے مذاکرات پر زور دینے کے باوجود تہران لگاتار یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ اس کی خودمختاری، قومی سلامتی اور بنیادی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ایرانی قیادت کے مطابق مذاکرات کا مقصد کسی ایک فریق کو دباؤ میں لانا نہیں بلکہ ایسے قابل عمل حل کی تلاش ہونا چاہیے جسے تمام متعلقہ فریق قبول کر سکیں۔

مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران جنگ کا خواہاں نہیں، لیکن اپنے حقوق اور قومی مفادات کے دفاع سے بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے مطابق ایران سفارت کاری کو ایک مؤثر ذریعہ سمجھتا ہے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ مذاکرات دھمکی اور دباؤ سے پاک ماحول میں ہوں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق ایرانی صدر کے بیان کو موجودہ علاقائی صورتحال میں سفارتی راستے کی اہمیت کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان رابطے مزید آگے بڑھتے ہیں اور فریقین کسی قابل قبول فارمولے پر متفق ہوتے ہیں تو اس کے اثرات خطے کے دیگر ممالک پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ایرانی صدر کا مؤقف مجموعی طور پر یہ ہے کہ ایران اپنے حقوق اور خودمختاری کے تحفظ کے ساتھ ساتھ سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کے حل کا راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم تہران کے لیے یہ بھی اہم ہے کہ کسی بھی مذاکراتی عمل میں باہمی احترام اور برابری کے اصول کو برقرار رکھا جائے۔

ایران کی جانب سے جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دینے کا بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب عالمی برادری بھی خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ آنے والے دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں ہونے والی پیش رفت اس بات کا تعین کرے گی کہ موجودہ کشیدگی میں کمی کے لیے مذاکرات کس حد تک اثرانداز ثابت ہوتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *