بھارتی ریاست آسام میں حالیہ شدید سیلاب کے باعث انسانی جانوں کا نقصان مسلسل بڑھ رہا ہے۔ ریاستی ڈیزاسٹر مینجمنٹ حکام کے مطابق سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 82 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ لاکھوں شہری اب بھی اس قدرتی آفت کے اثرات سے نبرد آزما ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں تیزی سے جاری ہیں۔ بے گھر خاندانوں کے لیے ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں، جہاں خوراک، پینے کے صاف پانی اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ امدادی سامان کی تقسیم اور بحالی کے اقدامات بھی جاری ہیں، جبکہ متعدد علاقوں میں پانی اترنے کے بعد صورتحال میں بتدریج بہتری دیکھی جا رہی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی تعداد 11 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے، جس کے باعث ہزاروں خاندانوں کو نقل مکانی کرنا پڑی اور زرخیز زمینوں سمیت بنیادی شکل کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔

آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے کہا ہے کہ سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا مکمل سروے کیا جائے گا تاکہ متاثرین کو مؤثر ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت انشورنس کمپنیوں کے ساتھ بھی رابطے میں ہے تاکہ متاثرہ شہریوں کے مالی نقصانات کے ازالے کے لیے ممکنہ اقدامات کو حتمی شکل دی جا سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *