کراچی: سندھ کی وزیرِ صحت و آبادی بہبود ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے جناح اسپتال میں منشیات کے استعمال کے شکار افراد کے علاج اور بحالی کے لیے قائم کیے گئے جدید اوپیائیڈ ایگونِسٹ مینٹیننس تھراپی (OAMT) سینٹر کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔
افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے کہا کہ نئے سینٹر کا مقصد منشیات کے عادی افراد کو مرحلہ وار علاج فراہم کرنا، ان کی جسمانی و ذہنی بحالی یقینی بنانا اور انہیں دوبارہ ایک صحت مند اور باوقار زندگی کی طرف واپس لانا ہے۔ ان کے مطابق یہاں جدید طبی سہولیات، مسلسل طبی نگرانی، نفسیاتی مشاورت اور بحالی کے جامع پروگرام ایک ہی جگہ دستیاب ہوں گے۔
انہوں نے بتایا کہ سینٹر میں ماہر معالجین، تربیت یافتہ نرسنگ اسٹاف اور متعلقہ طبی ٹیم مریضوں کی حالت پر مسلسل نظر رکھے گی تاکہ ہر فرد کو اس کی ضرورت کے مطابق علاج فراہم کیا جا سکے۔ وزیرِ صحت نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ایچ آئی وی کی بروقت تشخیص کے لیے اسکریننگ کے دائرہ کار کو مزید وسیع اور مؤثر بنایا جا رہا ہے، تاکہ متاثرہ افراد کی جلد نشاندہی اور فوری علاج ممکن بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو نے جناح اسپتال میں ایک مریض کی مبینہ غفلت کے باعث ہونے والی ہلاکت کے حوالے سے کہا کہ اگر کسی بھی سطح پر لاپرواہی ثابت ہوتی ہے تو اس کی مکمل، غیرجانبدار اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقائق سامنے آنے کے بعد ہی ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جانی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی مریض کی جان کا ضیاع معمولی واقعہ نہیں ہو سکتا، اس لیے ایسے معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسانی جان کی اہمیت پر سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا اور کسی بھی غیر ذمہ دارانہ بیان یا رویے کی بھرپور مذمت کی جانی چاہیے۔
