پاکستان اور ایران نے دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو نئی جہت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مشترکہ تجارتی کمیٹی (جوائنٹ ٹریڈ کمیٹی) کے دسویں اجلاس میں باہمی تجارت کو 10 ارب ڈالر تک بڑھانے کے ہدف پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں تجارتی تعاون، سرمایہ کاری اور سرحدی روابط کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان نے کہا کہ پاکستان اور ایران کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں تبدیل کرنا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاک۔ایران فری ٹریڈ ایگریمنٹ کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے نئے مواقع پیدا کیے جا سکیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ سرحدی تجارتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان کے مطابق کسٹمز کلیئرنس، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور کارگو نقل و حمل میں موجود رکاوٹوں کو دور کرکے تجارتی سرگرمیوں کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشترکہ بارڈر مارکیٹس کے قیام، ڈیجیٹل کسٹمز نظام اور الیکٹرانک ڈیٹا کے تبادلے جیسے اقدامات سے نہ صرف کاروباری عمل میں شفافیت آئے گی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم میں بھی نمایاں اضافہ ممکن ہوگا۔
جام کمال خان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کا نجی شعبہ باہمی تجارت اور سرمایہ کاری کو وسعت دینے کے لیے بھرپور دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ کاروبار دوست پالیسیوں، مستحکم معاشی ماحول اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو فروغ دے کر نجی شعبے کے لیے سازگار حالات فراہم کیے جائیں۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں ممالک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مشترکہ تجارتی کمیٹی کے فیصلوں پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی، تجارتی روابط کو مضبوط بنایا جائے گا اور باہمی تجارت کو مقررہ ہدف تک پہنچانے کے لیے عملی اقدامات تیز کیے جائیں گے۔
