امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری بحری پابندیوں پر عمل درآمد کے دوران امریکی افواج نے متعدد کارروائیاں کرتے ہوئے اب تک 24 تجارتی جہازوں کا رخ تبدیل کرایا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق دو جہازوں کو آپریشن کے دوران ناکارہ بنایا گیا جبکہ مزید دو پر چڑھ کر تلاشی اور کارروائی کی گئی۔
سینٹ کام کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ 30 جولائی تک کی کارروائیاں مشرقِ وسطیٰ کے اہم سمندری راستوں میں جاری فوجی آپریشنز کا حصہ تھیں۔ بیان کے مطابق ان اقدامات کا مقصد ایران پر عائد بحری پابندیوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور خطے میں بحری نقل و حمل کی نگرانی کرنا ہے۔
امریکی فوج نے اپنے بیان کے ساتھ ایک تصویر بھی جاری کی، جس میں امریکی بحریہ کا پی-8 پوسائیڈن میری ٹائم نگرانی طیارہ فضائی گشت کے دوران امریکی فضائیہ کے ٹینکر طیارے سے فضا میں ایندھن حاصل کرتا دکھایا گیا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جدید نگرانی کے یہ طیارے، جنگی بحری جہاز اور دیگر عسکری وسائل مسلسل حساس سمندری راستوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ کسی بھی مشتبہ سرگرمی کا فوری پتہ لگایا جا سکے۔
تاہم امریکی فوج نے ان تجارتی جہازوں کی شناخت، ان کے پرچم، کارگو کی نوعیت یا ان کے خلاف کی گئی کارروائیوں کی مکمل تفصیلات جاری نہیں کیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ جن دو جہازوں کو ناکارہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا، ان کے خلاف عملی طور پر کس نوعیت کے اقدامات کیے گئے۔
دوسری جانب ایران کی جانب سے امریکی دعوؤں پر فوری طور پر کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا۔ بین الاقوامی سطح پر بھی ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، جس کے باعث صورتحال کے مختلف پہلو تاحال غیر واضح ہیں۔
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اگر بحری پابندیوں اور نگرانی کی کارروائیوں میں مزید شدت آتی ہے تو خلیجی خطے کے اہم تجارتی راستے، عالمی سپلائی چین اور توانائی کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی تناظر میں عالمی برادری خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، جبکہ سفارتی حلقے کشیدگی میں کمی اور تنازع کے پرامن حل پر زور دے رہے ہیں۔
