کراچی: سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے ٹی ایم سیز کے مرحوم سینیٹری ورکرز کے اہلِ خانہ کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ بیواؤں اور قانونی وارثوں کے تمام بقایا مالی واجبات چھ ہفتوں کے اندر ادا کیے جائیں۔
سماعت کے دوران درخواست گزاروں کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ کئی مرحوم ملازمین کے انتقال کے باوجود ان کے اہلِ خانہ کو پنشن اور دیگر واجبات تاحال مکمل طور پر ادا نہیں کیے گئے، جس کے باعث متاثرہ خاندان شدید مالی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ وکیل نے بتایا کہ بعض درخواست گزار بیوائیں معذوری سمیت دیگر مسائل کا شکار ہیں اور اپنے خاندان کی واحد کفیل ہیں۔
کے ایم سی کی جانب سے عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ایک مرحوم ملازم کے تمام بقایا واجبات کی ادائیگی کا عمل ایک ماہ کے اندر مکمل کر لیا جائے گا، جبکہ دوسرے مرحوم ملازم کی واجبات سے متعلق فائل متعلقہ ویلفیئر شعبے کو موصول ہو چکی ہے۔ عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ اہلِ خانہ کو فیملی پنشن باقاعدگی سے ادا کی جا رہی ہے۔
سرکاری وکیل کے مطابق سندھ حکومت پنشن کی ادائیگی کے لیے ہر ماہ مالی وسائل فراہم کر رہی ہے، تاہم ٹی ایم سیز کے ریٹائرڈ اور مرحوم ملازمین کے بقایا واجبات کی ادائیگی مکمل کرنے کے لیے مزید فنڈز درکار ہیں، جس کے لیے اضافی مالی معاونت کی درخواست بھی حکومت کو بھیج دی گئی ہے۔
عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ پنشن اور ریٹائرمنٹ سے متعلق واجبات ملازمین اور ان کے قانونی ورثا کا بنیادی حق ہیں، اس لیے انتظامی رکاوٹیں یا محکموں کے مابین کارروائی واجبات کی ادائیگی میں غیر ضروری تاخیر کا جواز نہیں بن سکتیں۔
سندھ ہائی کورٹ نے متعلقہ حکام کو حکم دیا کہ مرحوم سینیٹری ورکرز کے اہلِ خانہ کو تمام واجبات چھ ہفتوں کے اندر ادا کیے جائیں۔ بعد ازاں عدالت نے متعلقہ حکام کی یقین دہانی کے بعد درخواستیں نمٹا دیں
