حوثیوں کا جدید بیلسٹک میزائل تیار کرنے کا منصوبہ، سعودی عرب اور اسرائیل ممکنہ رینج میں
یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے جدید بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوششوں سے متعلق اہم انکشاف سامنے آیا ہے، جس کے بعد مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال کے حوالے سے نئے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق یمن کے حوثی جنگجو چین کے ایک سپلائر سے حاصل کردہ پرزوں کی مدد سے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والا بیلسٹک میزائل تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوجاتا ہے تو اس سے حوثیوں کی میزائل صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوسکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہتھیاروں کی تیاری اور تنازعات میں ان کے استعمال کا جائزہ لینے والے تحقیقی ادارے کانفلکٹ آرمامنٹ ریسرچ نے اس معاملے کی نشاندہی کی ہے۔ تحقیق کے مطابق حوثیوں کو ایسے پرزے حاصل ہوئے ہیں جو ایران کے جدید بیلسٹک میزائل ’’خیبر شکن‘‘ سے مشابہ میزائل کی تیاری میں استعمال ہوسکتے ہیں۔
حوثیوں کے مجوزہ میزائل کی رینج کتنی ہوسکتی ہے؟
رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے تیار کیے جانے والے ممکنہ میزائل کی مار کرنے کی صلاحیت تقریباً 1,200 میل، یعنی لگ بھگ 1,930 کلومیٹر تک ہوسکتی ہے۔ اتنے فاصلے تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھنے والا میزائل حوثی گروپ کی موجودہ عسکری استعداد میں اہم تبدیلی لاسکتا ہے۔
ایران کا خیبر شکن ایک بیلسٹک میزائل ہے جسے درست نشانہ لگانے کی صلاحیت کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں حوثیوں کے زیر غور میزائل کو اسی طرز کے ہتھیار سے مشابہ قرار دیا گیا ہے، تاہم اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حوثیوں نے ایرانی میزائل کی مکمل نقل تیار کرلی ہے یا ان کا مجوزہ ہتھیار عملی طور پر تیار ہوچکا ہے۔
سعودی عرب اور اسرائیل ممکنہ اہداف کی زد میں آسکتے ہیں
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر حوثی گروپ تقریباً 1,930 کلومیٹر تک مار کرنے والا میزائل بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو سعودی عرب کا پورا علاقہ اور اسرائیل کے بعض یا تمام حصے اس کی ممکنہ جغرافیائی رینج میں آسکتے ہیں۔
اس نوعیت کی میزائل صلاحیت حوثیوں کو خطے میں دور فاصلے تک حملے کرنے کے زیادہ امکانات فراہم کرسکتی ہے۔ اس پیش رفت کے اثرات سعودی عرب اور اسرائیل کی سکیورٹی منصوبہ بندی کے علاوہ مشرق وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
تاہم کسی ملک کا میزائل کی ممکنہ رینج میں آنا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہاں حملہ کیا جائے گا۔ اسی طرح میزائل کی اصل کارکردگی کا تعین اس کی تیاری، آزمائش اور عملی صلاحیت سے ہوتا ہے، جس کی تفصیلات اس رپورٹ میں مکمل طور پر سامنے نہیں آئیں۔
چینی پرزوں کی فراہمی سے متعلق کیا انکشاف ہوا؟
تحقیق کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ حوثی گروپ جدید ہتھیاروں کی تیاری کے لیے بیرونی ذرائع سے حاصل کردہ پرزوں پر انحصار کرتے ہوئے اپنی مقامی پیداواری صلاحیت بڑھانے کی کوشش کررہا ہے۔
رپورٹ میں چین کے ایک سپلائر سے متعلق معلومات کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے مبینہ طور پر ایسے اجزا حاصل کیے گئے جو میزائل سازی میں استعمال ہوسکتے ہیں۔ اس معاملے میں سپلائر کی غیر مصدقہ سرگرمی اور چینی حکومت کی سرکاری پالیسی یا براہ راستہ حمایت کے درمیان فرق رکھنا ضروری ہے۔
دستیاب معلومات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ چینی حکومت نے حوثیوں کو میزائل بنانے میں براہ راست مدد فراہم کی۔ اس دعوے کی تصدیق کے لیے مزید شواہد درکار ہوں گے۔
مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی خدشات کیوں بڑھ سکتے ہیں؟
حوثی گروپ کی میزائل صلاحیت میں ممکنہ اضافے کی اطلاعات ایسے وقت میں اہمیت رکھتی ہیں جب مشرق وسطیٰ میں مختلف فریقوں کے درمیان کشیدگی اور سکیورٹی چیلنجز بدستور موجود ہیں۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کی تیاری خطے میں دفاعی حکمت عملی، نگرانی اور میزائل روکنے کے نظام سے متعلق معاملات کو مزید اہم بنا سکتی ہے۔
اس کے باوجود اس پیش رفت کے حقیقی اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے میزائل کی تیاری کے مرحلے، اس کی آزمائش اور عملی کارکردگی کے بارے میں مصدقہ معلومات ضروری ہیں۔
فی الحال رپورٹ سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ مجوزہ میزائل مکمل طور پر تیار ہوچکا ہے، اس کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے یا حوثی گروپ اسے کب تک عملی استعمال کے قابل بنانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب اور اسرائیل کے لیے خطرے کا جائزہ لیتے ہوئے ان معلومات کو ایک رپورٹ شدہ امکان کے طور پر دیکھنا چاہیے، نہ کہ مکمل طور پر ثابت شدہ فوجی صلاحیت کے طور پر۔
