ایران کی سعودی عرب اور یمن کے درمیان مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش

تہران: ایران نے سعودی عرب اور یمن کے حوثیوں کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے سفارتی تعاون کی پیشکش کر دی ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سعودی مساوی عہدے پر فائز شہزادہ فیصل بن فرحان سے ٹیلی فونک رابطے کے دوران یہ تجویز کی۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق، حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب پر حملوں میں اضافے کے بعد دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی یہ پہلی رپورٹ شدہ گفتگو ہے۔ رابطے میں خطے کی صورت حال اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر توجہ دی گئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کو متعدد مرتبہ نشانہ بنایا گیا۔ اسی دوران ریاض کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہفتے کے روز ہونے والے ایک حملے میں 13 افراد کی ہلاکت اور 300 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی سامنے آئی۔

رپورٹ نے اس واقعے کو ایک دہائی سے زائد عرصے میں سعودی عرب پر ہونے والے مہلک ترین حملوں میں سے ایک قرار دیا ہے۔ ان واقعات کے بعد خطے میں سکیورٹی صورت حال اور سعودی عرب و حوثیوں کے درمیان کشیدگی کے مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔

ایران کی جانب سے مذاکرات میں سہولت کاری کی پیشکش ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں جاری تناؤ کے باعث سفارتی رابطوں کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ اگر متعلقہ فریق مذاکرات پر آمادہ ہوتے ہیں تو اس سے اختلافات کے حل اور کشیدگی میں کمی کے لیے بات چیت کا راستہ کھل سکتا ہے۔

تاہم، دستیاب رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ سعودی عرب نے ایران کی پیشکش قبول کی ہے یا نہیں۔ اسی طرح مذاکرات کے آغاز، ممکنہ مقام یا کسی باضابطہ طریقۂ کار سے متعلق بھی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔

موجودہ صورت حال میں ایران کی پیشکش اور سعودی عرب کے ممکنہ ردعمل کو خطے میں سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ آئندہ پیش رفت کا انحصار متعلقہ فریقوں کے مؤقف اور مذاکرات کے لیے رضامندی پر ہوگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *