ہوٹلوں میں مبینہ طور پر سرعام جواء اَکڑا پرچی چلنے کی شکایات سامنے
گھوٹکی عادلپور اور پیر بغدادی کے مختلف ہوٹلوں میں مبینہ طور پر سرعام جواء اَکڑا پرچی چلنے کی شکایات سامنے آنے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جہاں غیر قانونی سرگرمیوں کے بڑھتے رجحان کے باعث غریب افراد اور نوجوان نسل شدید متاثر ہونے لگی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ جواء اَکڑا پرچی جیسی سماجی برائی کے سبب کئی خاندان معاشی، اخلاقی اور سماجی بحرانوں کا شکار ہو رہے ہیں، جبکہ نوجوانوں اور اسکولی طلبہ کا بھی اس غیر قانونی دھندے کی جانب بڑھتا رجحان انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کرتا جا رہا ہے، جو مستقبل کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتا ہے۔
علاقہ مکینوں نے الزام عائد کیا ہے کہ عادلپور ایس ایچ او کی مبینہ نااہلی، غفلت اور غیر سنجیدہ رویے کے باعث جواء اَکڑا پرچی کا کاروبار بے خوف انداز میں جاری ہے، جبکہ اس کے خلاف تاحال کوئی مؤثر اور نتیجہ خیز کارروائی سامنے نہیں آ سکی، جس کے باعث شہریوں میں شدید بے چینی اور مایوسی پائی جا رہی ہے۔
سماجی، تعلیمی اور والدین کے حلقوں سمیت علاقہ مکینوں نے سندھ پولیس کے اعلیٰ حکام اور ایس ایس پی گھوٹکی سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کا فوری نوٹس لیا جائے، شفاف تحقیقات کرائی جائیں اور جواء جیسی سماجی برائی میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ نوجوان نسل اور غریب طبقے کو تباہی سے بچایا جا سکے اور معاشرے کو اس ناسور سے پاک بنایا جا سکے