کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کرنے کے مقدمے میں ملزم عرفان کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا ہے۔ عدالت نے ملزم کی جانب سے دائر اپیل پر سماعت کے بعد سزا میں تبدیلی کا حکم جاری کیا۔
سماعت کے دوران ملزم کے وکیل لیاقت گبول ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ ٹرائل کورٹ کی جانب سے سزا سناتے وقت قانونی تقاضوں کو مکمل طور پر پورا نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مقدمے کے گواہوں کے بیانات میں تضادات موجود تھے، جنہیں فیصلے میں مناسب طور پر مدنظر نہیں رکھا گیا۔
استغاثہ کے مطابق ملزم عرفان کو جون 2026 میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی نے جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنائی تھی۔ ملزم پر الزام تھا کہ اس نے 8 دسمبر 2022 کو کراچی کے علاقے مبینہ ٹاؤن میں ایک گھر میں داخل ہوکر کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور بعد ازاں گلا دبا کر قتل کردیا۔
پراسیکیوشن کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزم پیشے کے اعتبار سے پلمبر تھا اور گھر میں بچی کو اکیلا دیکھ کر مبینہ طور پر زبردستی داخل ہوا۔ استغاثہ کے مطابق واقعے کے بعد ملزم کے خلاف مقتولہ کے والد کی مدعیت میں مبینہ ٹاؤن تھانے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
ملزم کی جانب سے اپیل میں سزا کے قانونی پہلوؤں اور گواہوں کے بیانات میں مبینہ تضادات کو بنیاد بنایا گیا۔ سندھ ہائی کورٹ نے اپیل کی سماعت کے بعد پہلے سنائی گئی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا۔
عدالتی فیصلے کے بعد مقدمے میں ملزم کو دی گئی سزا کی نوعیت تبدیل ہوگئی ہے۔
