ڈیرہ اسماعیل خان میں جدید ایس او ایس ایمرجنسی سسٹم متعارف، شہری ایک بٹن سے حاصل کرسکیں گے مدد
ڈیرہ اسماعیل خان: خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں عوامی تحفظ اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ایس او ایس ایمرجنسی سسٹم متعارف کرا دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو مشکل حالات میں فوری رابطے اور امداد کی سہولت فراہم کرنا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق صوبے میں انتظامی بہتری اور عوامی سہولیات کی فراہمی کے لیے جاری اقدامات کے تحت ڈیرہ اسماعیل خان کے مختلف علاقوں میں خصوصی ایمرجنسی الرٹ سسٹم نصب کیا گیا ہے۔ اس نظام کو شہر کے مختلف مقامات پر موجود بجلی کے کھمبوں (پولز) کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں شہری باآسانی متعلقہ اداروں تک اپنی اطلاع پہنچا سکیں۔
نئے ایس او ایس سسٹم کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ کسی حادثے، خطرے یا ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنے والے شہری کو فوری مدد کے لیے طویل کارروائی سے گزرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ نصب شدہ ڈیوائس پر موجود بٹن دبا کر ایمرجنسی الرٹ جاری کرسکے گا۔
حکام کے مطابق بٹن فعال ہوتے ہی متعلقہ انتظامی اداروں کے ساتھ وائس اور ویڈیو رابطے کی سہولت میسر آسکے گی، جس کے ذریعے متاثرہ شخص اپنی صورتحال براہ راست بیان کرسکے گا۔ اس طریقہ کار سے ہنگامی اطلاع کی بروقت ترسیل اور امدادی کارروائیوں میں رابطے کو بہتر بنانے میں مدد ملنے کی توقع ہے۔
اس جدید نظام کے ذریعے شہریوں کو ایک ایسا فوری رابطہ پلیٹ فارم فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے کسی بھی غیر معمولی واقعے یا خطرے کی اطلاع متعلقہ حکام تک پہنچانا آسان ہوسکے۔ بالخصوص ایسے حالات میں جب فوری مدد کی ضرورت ہو، یہ سہولت اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
دوسری جانب شہریوں کا کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں گورنر راج کے بعد انتظامی امور میں بہتری، عوامی تحفظ اور جدید سہولیات کی فراہمی سے متعلق اقدامات نمایاں اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کے مطابق شہری علاقوں میں ٹیکنالوجی پر مبنی حفاظتی نظام متعارف کرانا وقت کی ضرورت ہے۔
عوامی حلقوں نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے توقع ظاہر کی ہے کہ ایس او ایس ایمرجنسی سسٹم کو مؤثر انداز میں فعال رکھا جائے گا اور ضرورت کے وقت شہریوں کو بروقت مدد فراہم کرنے کے لیے متعلقہ ادارے فوری کارروائی یقینی بنائیں گے۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں اس جدید نظام کا آغاز شہری تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاہم اس کی کامیابی کا انحصار نظام کی مسلسل نگرانی، فوری رسپانس اور متعلقہ اداروں کے مؤثر رابطہ کار پر ہوگا۔
