پاکستانی اداکارہ عفت عمر نے لاہور میں ہونے والے لام فیشن ویک کے دوران ایک کلام پر رقص کرنے کے معاملے پر اپنا مؤقف بیان کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ویڈیو سامنے آنے کے بعد انہیں مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جس پر اداکارہ نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ابتدا میں پس منظر میں چلنے والے کلام کے بارے میں علم نہیں تھا۔
فیشن ویک کے دوران پیش آنے والے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرتی رہی۔ ویڈیو میں عفت عمر کو معروف فیشن ڈیزائنر نیلوفر شاہد کے ساتھ اسٹیج پر رقص کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس موقع پر اداکارہ کے انداز اور تاثرات بھی توجہ کا مرکز بنے، تاہم پس منظر میں چلنے والے کلام کے باعث یہ معاملہ سوشل میڈیا پر بحث کا موضوع بن گیا۔
عفت عمر نے کیا وضاحت پیش کی؟
تنقید کے بعد عفت عمر نے وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ جب رقص کا آغاز ہوا تو انہیں معلوم نہیں تھا کہ پس منظر میں کون سا کلام چل رہا ہے۔ ان کے مطابق جیسے ہی انہیں اس کی نوعیت کا احساس ہوا، انہوں نے رقص روک دیا۔
اداکارہ نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ اگر انہیں پہلے ہی معلوم ہوتا کہ تقریب میں کلام چلایا جا رہا ہے تو وہ اس پر رقص کرنے سے گریز کرتیں۔ ان کی وضاحت کا مقصد اس معاملے میں اپنی پوزیشن واضح کرنا تھا، جس پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے مختلف آرا سامنے آئیں۔
سوشل میڈیا پر بحث کیوں چھڑی؟
فیشن شوز میں فنکاروں کے لباس، انداز اور اسٹیج پر پیش کی جانے والی پرفارمنس اکثر عوامی توجہ حاصل کرتی ہے۔ تاہم جب کسی تقریب میں مذہبی یا روحانی نوعیت کا کلام پیش کیا جائے تو اس کے ساتھ ہونے والی سرگرمیاں بھی زیر بحث آ سکتی ہیں۔
عفت عمر کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آئی۔ بعض صارفین نے کلام کے دوران رقص کرنے پر اعتراض کیا، جبکہ اس واقعے کے حوالے سے اداکارہ کی وضاحت بھی گفتگو کا حصہ بن گئی۔
عفت عمر پاکستان کی شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات میں شمار ہوتی ہیں اور وہ مختلف مواقع پر اپنے بیانات اور سرگرمیوں کے باعث خبروں میں رہتی ہیں۔ حالیہ واقعے نے ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر فنکاروں کے عوامی طرزِ عمل اور تقریبات میں پیش کیے جانے والے مواد سے متعلق بحث کو نمایاں کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ اس معاملے میں عفت عمر کی جانب سے سامنے آنے والی وضاحت کے مطابق انہیں ابتدا میں پس منظر میں چلنے والے کلام کا علم نہیں تھا اور آگاہ ہونے کے بعد انہوں نے رقص روک دیا تھا۔
