پاکستان کے سرکاری اور مالیاتی اداروں کو سائبر حملوں کا خطرہ، نیشنل سرٹ کی ایڈوائزری جاری
اسلام آباد: پاکستان کے سرکاری اداروں، مالیاتی شعبے اور اہم ڈیجیٹل نظاموں کو سائبر حملوں کے ممکنہ خطرات سے خبردار کر دیا گیا ہے۔ نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم (نیشنل سرٹ) نے ڈیجیٹل سیکیورٹی سرٹیفکیٹس میں سامنے آنے والی خامیوں کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو حفاظتی اقدامات فوری طور پر مکمل کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
دستیاب تفصیلات کے مطابق ای مَدھرا (eMudhra) کی سرٹیفکیٹ اتھارٹی سے متعلق نجی سیکیورٹی کیز میں کمزوریوں کی نشاندہی ہوئی ہے، جس کے باعث سرکاری ویب سائٹس، مالیاتی خدمات اور دیگر اہم انفارمیشن انفرا اسٹرکچر کی سیکیورٹی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر آٹھ نجی سیکیورٹی کیز متاثر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ ان میں چھ کیز ٹی ایل ایس (TLS) سرٹیفکیٹس جبکہ دو کوڈ سائننگ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ ڈیجیٹل سیکیورٹی کے اس نظام میں موجود کمزوریاں حملہ آوروں کے لیے مختلف نوعیت کے سائبر خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔
جعلی ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس کے ذریعے ڈیٹا چوری کا خدشہ
ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس انٹرنیٹ پر ویب سائٹس اور آن لائن سروسز کی شناخت کی تصدیق اور محفوظ رابطے قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ان سرٹیفکیٹس سے منسلک نجی سیکیورٹی کیز غیر محفوظ ہو جائیں تو حملہ آور ان کی مدد سے جعلی سرٹیفکیٹس تیار کرنے یا کسی مستند ویب سائٹ اور سروس کی نقل کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
ایسی صورت حال میں صارفین کو جعلی ویب سائٹس کی طرف منتقل کرنے، انٹرنیٹ ٹریفک میں مداخلت کرنے اور حساس معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے کے خطرات بڑھ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیٹا کی نگرانی، معلومات میں ردوبدل اور آن لائن رابطوں کو متاثر کرنے جیسے خدشات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔
مالیاتی اداروں اور سرکاری محکموں کے لیے ایسے خطرات خصوصی اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے ڈیجیٹل نظاموں پر شہریوں کی ذاتی معلومات، مالیاتی ریکارڈ اور حساس سرکاری ڈیٹا موجود ہو سکتا ہے۔ تاہم، سیکیورٹی کیز میں کمزوری کی نشاندہی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام متعلقہ اداروں پر حملہ ہو چکا ہے یا ان کا ڈیٹا لازماً چوری کیا گیا ہے۔
نیشنل سرٹ کی اداروں کو اہم ہدایات
نیشنل سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے آپریٹنگ نظام، انٹرنیٹ براؤزرز اور دیگر سافٹ ویئر کو تازہ ترین سیکیورٹی اپ ڈیٹس کے ذریعے محفوظ بنائیں۔ اس کے ساتھ متاثرہ سرٹیفکیٹس کی شناخت کرکے انہیں بلاک کرنے اور سیکیورٹی ٹرسٹ اسٹورز کو اپ ڈیٹ کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
ایڈوائزری میں ان سسٹمز کی تلاش کو بھی اہم قرار دیا گیا ہے جو عام براؤزر یا آپریٹنگ سسٹم کے بجائے اپنے الگ سرٹیفکیٹ اسٹورز استعمال کرتے ہیں۔ ان میں موبائل ایپلی کیشنز، کمپیوٹر سافٹ ویئر اور دیگر ڈیجیٹل پلیٹ فارمز شامل ہو سکتے ہیں۔ متعلقہ اداروں کو ایسے تمام نظاموں کا جائزہ لینے اور ضرورت کے مطابق حفاظتی تبدیلیاں نافذ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
ماہرینِ سائبر سیکیورٹی کے لیے سرٹیفکیٹس کی بروقت منسوخی، قابل اعتماد سرٹیفکیٹس کی فہرستوں کی تازہ کاری اور مشکوک ڈیجیٹل سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی بھی اہم اقدامات ہیں۔
مشکوک نیٹ ورک سرگرمیوں کی نگرانی پر زور
ایڈوائزری کے مطابق اداروں کو اپنے نیٹ ورکس میں غیر معمولی سرگرمیوں، مشکوک سرٹیفکیٹس کے استعمال اور کنکشنز کو غیر متوقع طور پر دوسری ویب سائٹس یا سرورز کی جانب منتقل کیے جانے جیسے واقعات پر نظر رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
متعلقہ اداروں کو یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر جعلی ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس کے استعمال، ڈیٹا میں مداخلت یا معلومات کو خفیہ طور پر حاصل کرنے کی کوششوں کا شبہ ہو تو ایسے واقعات کی اطلاع نیشنل سرٹ پاکستان کو دی جائے، تاکہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی اور ان سے نمٹنے کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔
ڈیجیٹل خدمات پر بڑھتے ہوئے انحصار کے باعث سرکاری اور مالیاتی اداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے سیکیورٹی نظاموں کا باقاعدگی سے جائزہ لیں، کمزوریوں کو بروقت دور کریں اور سائبر حملوں سے بچاؤ کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام برقرار رکھیں۔
موجودہ ایڈوائزری اس بات کی یاد دہانی ہے کہ ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس اور ان سے منسلک سیکیورٹی کیز کا تحفظ آن لائن خدمات کی قابل اعتماد حیثیت برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ بروقت حفاظتی اقدامات ممکنہ سائبر خطرات کو کم کرنے اور حساس معلومات کے تحفظ میں مدد دے سکتے ہیں۔ا
