آصف علی نائیک

31 اکتوبر 2026

چکوال کے علاقے یاسرآباد میں چھت پر کپڑے پھیلاتے ہوئے دو خواتین کی بجلی کی تاروں سے کرنٹ لگنے کے باعث المناک موت نے ہر دردِ دل رکھنے والے انسان کو افسردہ کردیا اس افسوس ناک سانحے نے ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا ہے کہ انسانی جانوں کے تحفظ میں غفلت کا ذمہ دار کون ہے محکمہ یا عوام؟

واقعے کے بعد بجلی کی تاروں کے قریب واقع گھروں کے مالکان کو نوٹس جاری کیے جانے کی اطلاعات سامنے آئیں سوال یہ ہے کہ کئی دہائیوں پہلے تعمیر ہونے والے گھروں کے مالکان اپنے مکانات پیچھے کیسے ہٹائیں؟ کیا صرف نوٹس جاری کردینا مسئلے کا حل ہے یا متعلقہ اداروں کو بھی اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے؟

اگر بجلی کی تاریں گھروں کی چھتوں کے قریب سے گزر رہی ہیں تو ضروری ہے کہ ان کی تنصیب حفاظتی فاصلے اور متعلقہ ضوابط پر عمل درآمد کا جائزہ لیا جائے نیپرا کے پاور سیفٹی کوڈ میں حفاظتی تقاضوں سے متعلق ضوابط موجود ہیں لہٰذا اس افسوس ناک واقعے کی شفاف تحقیقات کرکے معلوم کیا جانا چاہیے کہ آیا متعلقہ مقام پر حفاظتی اصولوں پر عمل کیا گیا تھا اور خطرے کی پہلے کوئی نشاندہی ہوئی تھی یا نہیں

آئیسکو سرکل چکوال کی 26 اکتوبر 2026ء کی پریس ریلیز کے مطابق بجلی کی لائنوں کے نیچے غیر قانونی تعمیرات کے معاملے پر دو ملازمین کو معطل کرنے اور متعلقہ افسران کے خلاف کارروائی کا عندیہ دیا گیا جبکہ تمام ایس ڈی اوز کو ایسی تعمیرات کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کی گئی تاہم یہ ایک الگ معاملہ ہے اور اسے یاسرآباد کے حادثے کی تحقیقات یا اس کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نہیں سمجھنا چاہیے

یہ پیش رفت یقیناً اہم ہے لیکن سوال یہ ہے کہ خطرناک مقامات کی نشاندہی حادثات سے پہلے کیوں نہیں ہوتی؟ کیا متعلقہ ادارے صرف کسی سانحے کے بعد حرکت میں آئیں گے یا انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات بھی کیے جائیں گے؟

بجلی کی لائنوں کے قریب موجود خطرناک مقامات کا سروے حفاظتی فاصلوں کی جانچ اور خطرے کا فوری خاتمہ متعلقہ اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے دوسری جانب شہریوں کو بھی بجلی کی تاروں کے قریب تعمیراتی کام اور روزمرہ سرگرمیوں کے دوران احتیاط کرنی چاہیے تاہم عوامی احتیاط محکمانہ ذمہ داریوں کا متبادل نہیں ہوسکتی

ضرورت اس امر کی ہے کہ چکوال کے سانحے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں حقائق عوام کے سامنے لائے جائیں اور جہاں غفلت یا قانون کی خلاف ورزی ثابت ہو وہاں بلاامتیاز کارروائی کی جائے شہر بھر میں بجلی کی خطرناک تاروں اور آبادیوں کے قریب موجود غیر محفوظ مقامات کی نشاندہی کرکے فوری حفاظتی انتظامات بھی کیے جائیں دو قیمتی جانیں ضائع ہوچکی ہیں مگر کیا ہم اس سانحے سے سبق سیکھیں گے؟

یاد رکھیے انسانی جان کسی نوٹس، فائل یا انتظامی کارروائی سے زیادہ قیمتی ہے حفاظتی قوانین کی اصل کامیابی حادثے کے بعد ذمہ داروں کی تلاش نہیں بلکہ حادثے سے پہلے خطرات کا خاتمہ اور انسانی زندگیوں کا تحفظ ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *