پاکستان کی بیرونی مالیاتی صورتحال کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف نے خبردار کردیا
اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاکستان کی درآمدات میں اضافے اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلاتِ زر کی رفتار سست ہونے کے باعث ملک کی بیرونی مالیاتی صورتحال دباؤ کا شکار ہوسکتی ہے۔ ادارے نے زرمبادلہ کے ذخائر کا تحفظ یقینی بنانے، شرحِ مبادلہ میں لچک برقرار رکھنے اور مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مالیاتی پالیسی مؤثر بنانے پر زور دیا ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی صورتحال سے متعلق یہ جائزہ مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کی معیشتوں پر اپنی علاقائی رپورٹ میں پیش کیا۔ رپورٹ میں مختلف ممالک کی بیرونی مالیاتی ضروریات، حکومتی قرضوں، افراطِ زر اور معاشی استحکام سے متعلق ممکنہ خطرات کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان
آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے تقریباً ایک فیصد تک پہنچ سکتا ہے، جس کی مالیت لگ بھگ 4.5 ارب ڈالر بنتی ہے۔ یہ تخمینہ حکومت کے تقریباً 2.5 ارب ڈالر کے اندازے سے زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق درآمدات میں متوقع اضافہ اور ترسیلاتِ زر کی رفتار میں کمی پاکستان کے بیرونی مالیاتی توازن کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ ایسی صورتحال میں ملک کو بیرونی ادائیگیوں کے لیے زیادہ مالی وسائل درکار ہوسکتے ہیں، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ بڑھنے کا امکان ہے۔
عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات جی ڈی پی کے 22 سے 25 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ تناسب ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے اور اس کے باعث ملکی معیشت کو مختلف مالیاتی خطرات کا سامنا ہوسکتا ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر اور شرحِ مبادلہ سے متعلق تجاویز
آئی ایم ایف نے پاکستان کو مشورہ دیا ہے کہ بیرونی مالیاتی دباؤ سے نمٹنے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے شرحِ مبادلہ میں لچک برقرار رکھی جائے۔ ادارے کے مطابق معاشی حالات کے مطابق شرحِ مبادلہ میں ردوبدل کی گنجائش بیرونی جھٹکوں کو برداشت کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔
تاہم روپے کی قدر میں کمی کے معاملے پر محتاط رویہ اختیار کرنے کی وجوہات بھی موجود ہیں۔ روپے کی قدر کم ہونے سے درآمدی اشیا مہنگی ہوسکتی ہیں، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ برآمدات کو حقیقی فائدہ پہنچنے کا انحصار دیگر معاشی عوامل پر بھی ہوتا ہے۔
فراہم کردہ رپورٹ میں انٹربینک مارکیٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ جمعرات کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر ایک پیسے بہتر ہوکر 276.85 روپے رہی۔
مہنگائی پر قابو پانے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی پر زور
آئی ایم ایف نے نشاندہی کی ہے کہ جن ممالک میں مہنگائی مقررہ ہدف سے بلند ہے، انہیں ضرورت پڑنے پر مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
رپورٹ کے مطابق بعض معیشتوں میں مرکزی بینک کی شرحِ سود اندازاً غیر جانب دار سطح سے کم ہے، جس کے باعث مہنگائی کو قابو میں رکھنے کے لیے مزید اقدامات کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ پاکستان اور کرغزستان میں یہ صورتحال زیادہ نمایاں قرار دی گئی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد مختلف ممالک نے اپنے شرحِ مبادلہ کے نظام اور معاشی حالات کے مطابق شرحِ سود سے متعلق اقدامات کیے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لچکدار شرحِ مبادلہ کا نظام رکھنے والے ممالک میں پاکستان واحد ملک تھا جس نے تنازع کے آغاز کے بعد شرحِ سود میں اضافہ کیا۔
حکومتی قرضوں اور بینکوں کی سرمایہ کاری پر خدشات
رپورٹ میں حکومت اور تجارتی بینکوں کے درمیان مالیاتی روابط کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ آئی ایم ایف کے تخمینے کے مطابق پاکستان میں بینکوں کے مجموعی اثاثوں یا سرمایہ کاری میں حکومتی قرضوں سے متعلق ایکسپوژر کا تناسب 63 فیصد ہے، جو ابھرتی ہوئی معیشتوں میں عمومی طور پر دیکھے جانے والے تناسب سے زیادہ بتایا گیا ہے۔
اس صورتحال کے باعث بینکوں کی سرمایہ کاری کا بڑا حصہ حکومتی قرضوں سے منسلک رہتا ہے۔ اگر حکومتی قرضوں کے حوالے سے خطرات بڑھتے ہیں تو اس کے اثرات مالیاتی نظام اور قرضوں کی لاگت پر بھی مرتب ہوسکتے ہیں۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا ہے کہ حکومتی قرضوں سے متعلق خدشات بڑھنے کی صورت میں حکومت کو قرض حاصل کرنے کے لیے بنیادی تخمینوں سے زیادہ لاگت برداشت کرنا پڑ سکتی ہے۔ مصر اور پاکستان جیسی معیشتوں میں یہ خطرہ زیادہ اہمیت رکھتا ہے، جہاں مالیاتی ضروریات پہلے ہی بلند ہیں۔
پاکستان کی معاشی ترقی کا تخمینہ 3.5 فیصد برقرار
عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کی معاشی ترقی کی پیش گوئی 3.5 فیصد پر برقرار رکھی ہے۔ یہ شرح حکومت کے چار فیصد کے ہدف سے کم ہے اور فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق عالمی بینک کے تخمینے سے بھی نیچے ہے۔
معاشی ترقی کی رفتار کے ساتھ مہنگائی، درآمدات، بیرونی ادائیگیوں اور حکومتی قرضوں کی صورتحال پاکستان کے لیے اہم چیلنجز میں شامل ہیں۔ ان عوامل میں عدم توازن برقرار رہنے کی صورت میں معیشت پر مالیاتی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
رپورٹ میں خطے کی متعدد معیشتوں کے حوالے سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ 2026 کے دوران مالیاتی پالیسی نسبتاً نرم رہنے کا امکان ہے، جبکہ 2027 سے مالیاتی استحکام اور سرکاری اخراجات میں نظم و ضبط کی کوششیں دوبارہ تیز ہوسکتی ہیں۔
مجموعی طور پر آئی ایم ایف کی رپورٹ پاکستان کے لیے بیرونی مالیاتی توازن بہتر بنانے، مہنگائی پر قابو پانے اور قرضوں سے متعلق خطرات محدود رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ملک کی معاشی صورتحال میں بہتری کے لیے درآمدات، ترسیلاتِ زر، زرمبادلہ کے ذخائر اور حکومتی مالیاتی ضروریات میں توازن برقرار رکھنا اہم ہوگا۔
