مدینہ منورہ کی جانب ڈرون بھیجنے کی حوثیوں نے تردید کردی، سعودی اتحاد کا پانچ ڈرونز روکنے کا دعویٰ

صنعا: یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے مقدس شہر مدینہ منورہ کی سمت ڈرون بھیجنے اور سعودی سرزمین پر فوجی کارروائی کرنے کے الزامات مسترد کردیے ہیں۔ حوثی قیادت کا کہنا ہے کہ تنظیم نے نہ مدینہ منورہ کی جانب کوئی ڈرون روانہ کیا اور نہ ہی سعودی عرب کے خلاف کسی فوجی آپریشن میں حصہ لیا۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق حوثیوں کے فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے اپنے بیان میں سعودی عرب کے خلاف کارروائی سے لاتعلقی کا اظہار کیا۔ ان کا مؤقف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سعودی قیادت میں قائم اتحاد نے دعویٰ کیا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے سعودی عرب کی فضائی حدود میں پانچ ڈرونز کو روک کر تباہ کردیا۔

سعودی اتحاد کا پانچ ڈرونز روکنے کا دعویٰ

سعودی قیادت میں قائم اتحاد کے مطابق ڈرونز کو مدینہ منورہ اور مملکت کے مشرقی علاقے کے اوپر روکا گیا۔ اتحاد کے اس بیان کے بعد حوثی گروپ کی جانب سے تردید سامنے آئی، جس میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی میں ملوث ہونے سے انکار کیا گیا۔

اس معاملے پر دونوں فریقوں کے مؤقف میں واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔ ایک جانب سعودی اتحاد نے فضائی حدود میں پانچ ڈرونز کو روکنے اور تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جبکہ دوسری جانب حوثی ترجمان نے ان ڈرونز کو بھیجنے اور سعودی عرب کے خلاف آپریشن کرنے سے لاتعلقی ظاہر کی۔

ڈرونز کی اصل شناخت سے متعلق سوالات برقرار

تاحال دستیاب معلومات کی بنیاد پر ڈرونز کی اصل شناخت، ان کے ممکنہ مقامِ آغاز اور انہیں بھیجنے کے ذمہ داروں کے بارے میں آزادانہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔ اس لیے واقعے سے متعلق دونوں جانب کے بیانات کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

اس پیش رفت کے تناظر میں خطے کی سکیورٹی صورتِ حال پر بھی توجہ مرکوز ہے، کیونکہ یمن سے متعلق تنازع اور مشرقِ وسطیٰ میں علاقائی کشیدگی کے باعث فضائی سلامتی کے معاملات اہمیت رکھتے ہیں۔

واقعے کے بارے میں مزید تفصیلات، متعلقہ حکام کی وضاحت یا کسی آزاد ذریعے سے تصدیق سامنے آنے کے بعد صورتِ حال مزید واضح ہوسکتی ہے۔ فی الحال سعودی اتحاد کے دعوے اور حوثی گروپ کی تردید ہی اس معاملے کے بنیادی نکات ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *