کنگسٹن: پاکستان کے فاسٹ بولرز نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میچ میں غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ایسا اعزاز اپنے نام کر لیا جس کی مثال گزشتہ 31 برسوں میں نہیں ملتی۔

میچ میں قومی پیسرز نے ویسٹ انڈیز کی دونوں اننگز میں گرنے والی کل20 وکٹیں حاصل کیں۔ یوں ٹیسٹ کرکٹ میں لمبےعرصے بعد پاکستان کی جانب سے مخالف ٹیم کی ہر وکٹ فاسٹ بولرز کے حصے میں آئی، جو قومی فاسٹ بولنگ اٹیک کی بھرپور برتری کا مظہر ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس سے قبل پاکستان کے تیز گیند بازوں نے 1995 میں زمبابوے کے خلاف ہرارے ٹیسٹ میں بھی مخالف ٹیم کی تمام 20 وکٹیں اپنے نام کی تھیں۔ اس کے بعد اب پہلی مرتبہ یہ منفرد کارنامہ دوبارہ سرانجام دیا گیا ہے۔

یہ مقابلہ ایک اور اعتبار سے بھی تاریخی ثابت ہوا۔ ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر یہ پہلا ٹیسٹ میچ بن گیا جس میں دونوں ٹیموں کی مجموعی چالیس وکٹیں صرف تیز گیند باز نے حاصل کیں، جبکہ کسی اسپنر کو ایک بھی کامیابی نہ مل سکی۔

اس سے قبل ویسٹ انڈیز میں فاسٹ بولرز کی سب سے نمایاں اجتماعی کارکردگی 2025 میں آسٹریلیا اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے گئے کنگسٹن ٹیسٹ میں سامنے آئی تھی، جہاں تیز گیند بازوں نے مجموعی طور پر 39 وکٹیں حاصل کی تھیں۔ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے اس میچ نے اس ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑتے ہوئے نئی تاریخ رقم کر دی۔

کرکٹ ماہرین کے مطابق پاکستانی پیسرز کی نظم و ضبط سے بھرپور بولنگ، سازگار لائن و لینتھ اور کنڈیشنز سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی صلاحیت نے اس تاریخی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا، جسے قومی ٹیسٹ کرکٹ کی ایک یادگار بولنگ کارکردگی قرار دیا جا رہا ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *