پازیٹو پیس انڈیکس 2026: افغانستان جنوبی ایشیا میں سب سے نچلے درجوں میں شامل

کابل: افغانستان میں امن و امان، حکمرانی اور آزادیِ اظہار کی صورتحال سے متعلق ایک نئی عالمی رپورٹ میں اہم اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ آسٹریلوی تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی طرف سے جاری کی گئی پازیٹو پیس رپورٹ 2026 کے مطابق افغانستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں امن کے لیے بنیادی سماجی اور حکومتی عوامل کمزور صورتحال سے دوچار ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پازیٹو پیس انڈیکس 2026 میں افغانستان کو 163 ممالک میں 157ویں پوزیشن حاصل ہوئی۔ انڈیکس میں کسی ملک کی مجموعی صورتحال کا جائزہ صرف جنگ یا تشدد کی موجودگی کی بنیاد پر نہیں لیا جاتا بلکہ امن کے قیام کے لیے ضروری سماجی، سیاسی اور ادارہ جاتی عوامل کو بھی مدنظر رکھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کی پوزیشن میں گزشتہ عرصے کے دوران مزید تنزلی دیکھی گئی ہے۔ پازیٹو پیس انڈیکس میں ملک کی کارکردگی میں 3.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث افغانستان جنوبی ایشیا کے ان ممالک میں شامل ہوگیا ہے جہاں مثبت امن کے بنیادی عوامل سب سے زیادہ دباؤ کا شکار ہیں۔

افغانستان میں امن اور حکمرانی کے چیلنجز

پازیٹو پیس کا تصور کسی ملک میں صرف مسلح تنازع نہ ہونے تک محدود نہیں ہوتا۔ اس میں ایسے حالات کو بھی اہمیت دی جاتی ہے جو معاشرے میں دیرپا امن، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ ان میں مؤثر حکمرانی، مضبوط ادارے، شہریوں کے حقوق، معلومات تک رسائی، معاشی مواقع اور سماجی سطح پر اعتماد جیسے عوامل شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان کو ان شعبوں میں مختلف نوعیت کے مسائل کا سامنا ہے۔ حکمرانی کے نظام، شہری آزادیوں اور اظہارِ رائے سے متعلق صورتحال بھی عالمی سطح پر افغانستان کی درجہ بندی پر اثر انداز ہونے والے عوامل میں شامل ہے۔

صحافتی آزادی میں نمایاں کمی

رپورٹ میں افغانستان میں میڈیا اور صحافتی آزادی کی صورتحال پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق افغان حکومت کے موجودہ دور میں صحافتی آزادی کے حوالے سے 78.8 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جسے خطے میں نمایاں تنزلی قرار دیا گیا ہے۔

صحافت اور آزادیِ اظہار کسی بھی معاشرے میں معلومات کی آزادانہ ترسیل اور عوامی مکالمے کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ اسی وجہ سے پازیٹو پیس کے جائزے میں میڈیا اور اظہارِ رائے سے متعلق ماحول بھی وسیع تر امن اور حکمرانی کے عوامل کا حصہ بنتا ہے۔

جنوبی ایشیا میں افغانستان کی پوزیشن

پازیٹو پیس انڈیکس 2026 کے نتائج افغانستان کے لیے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ملک کو معاشی، سماجی اور حکمرانی کے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران افغانستان کی مثبت امن سے متعلق کارکردگی میں مسلسل دباؤ دیکھا گیا ہے۔

163 ممالک پر مشتمل عالمی درجہ بندی میں 157ویں نمبر پر موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ افغانستان کو پائیدار امن اور مضبوط ادارہ جاتی ماحول کے قیام کے لیے مختلف شعبوں میں بہتری کی ضرورت ہے۔

رپورٹ کے نتائج یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کسی ملک میں امن کا جائزہ صرف جنگ یا دہشت گردی کے واقعات کی تعداد سے نہیں لیا جاسکتا۔ معاشرتی استحکام، حکومتی اداروں کی کارکردگی، شہری آزادیوں، میڈیا کے ماحول اور معاشی و سماجی مواقع بھی مثبت امن کے اہم اجزا ہیں۔

پازیٹو پیس رپورٹ 2026 میں افغانستان کی درجہ بندی اسی وسیع تر فریم ورک کے تحت کی گئی ہے، جس میں ملک کی مجموعی سماجی اور ادارہ جاتی صورتحال کا جائزہ لیا جاتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *