بھارت میں انتخابی فہرستوں کا تنازع، اپوزیشن کے احتجاج میں شدت

نئی دہلی: بھارت میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی اور انتخابی عمل سے متعلق جاری تنازع کے باعث سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے۔ اپوزیشن جماعت کانگریس کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور انتخابی فہرستوں سے متعلق فیصلوں کے آزادانہ جائزے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک کے مختلف شہروں میں احتجاج کیا گیا۔

حالیہ مظاہروں کے دوران بعض مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان کشیدگی بھی دیکھنے میں آئی۔ رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق 25 ستمبر کو بھارت کے مختلف علاقوں میں احتجاج کرنے والے کانگریس کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ مظاہرین چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے استعفے کا مطالبہ کر رہے تھے اور ووٹر فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر اعتراضات اٹھا رہے تھے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق احتجاج کا مرکزی معاملہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ووٹر فہرستوں کی Special Intensive Revision (SIR) سے متعلق ہے۔ کانگریس رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ اس عمل کے دوران بعض ووٹرز کے نام فہرستوں سے خارج کیے جانے اور انتخابی عمل سے متعلق فیصلوں میں شفافیت کے مسائل پیدا ہوئے ہیں۔ ان الزامات کی بنیاد پر اپوزیشن کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف کارروائی اور انتخابی فیصلوں کے جائزے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق جماعت نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی سے متعلق معاملات کی آزادانہ تحقیقات اور انتخابی فہرستوں میں ناموں کے اخراج کے طریقہ کار پر وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔

احتجاج کا دائرہ صرف ایک شہر تک محدود نہیں رہا بلکہ دہلی، پٹنہ، چندی گڑھ، جموں، کولکتہ، آسام، اترپردیش اور دیگر علاقوں میں بھی مظاہرے رپورٹ ہوئے۔ بعض مقامات پر پولیس نے مظاہرین کو روکنے کے لیے پانی کی توپوں کا استعمال کیا جبکہ کچھ علاقوں میں گرفتاریاں بھی سامنے آئیں۔

تنازع کے پس منظر میں الیکشن کمیشن کے SIR عمل سے متعلق فیصلے بھی زیر بحث ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے متعدد بھارتی ذرائع نے بتایا کہ الیکشن کمیشن کے دو ارکان کی جانب سے بعض فیصلوں پر متعدد مرتبہ اعتراضات کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ تاہم ان اعتراضات اور ان کی نوعیت سے متعلق مختلف سیاسی فریقوں کے مؤقف الگ الگ ہیں۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے اس معاملے میں یہ مؤقف بھی سامنے آیا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں اہل ووٹرز کے نام شامل رکھنے اور انتخابی عمل کو مؤثر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار نے حالیہ بیان میں کہا کہ 18 سال سے زائد عمر کے تمام اہل بھارتی شہریوں کے نام انتخابی فہرست میں شامل ہونے چاہئیں اور کمیشن اس مقصد کے لیے مختلف اقدامات کر رہا ہے۔

یوں بھارت میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا معاملہ ایک اہم سیاسی اور انتخابی بحث بن چکا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل میں شفافیت اور ووٹر فہرستوں کے حوالے سے وضاحت کا مطالبہ کر رہی ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن انتخابی فہرستوں کی درستگی اور اہل ووٹرز کی شمولیت پر زور دے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازع پر مزید سیاسی سرگرمی اور قانونی پیش رفت سامنے آنے کا امکان ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *