ٹرمپ کی ایران کو سخت دھمکی، امریکی صدر کا بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو تہران کے خلاف کوئی بڑا قدم اٹھانا پڑ سکتا ہے، جس میں شدید نوعیت کا فوجی حملہ بھی شامل ہوسکتا ہے۔
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی سے متعلق اطلاعات پر گفتگو کی۔ اس دوران ان سے ایران کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنانے کے ممکنہ منصوبوں کے بارے میں سوال کیا گیا۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں امریکا کو ایک بڑی کارروائی کرنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ اس اقدام کی صورت میں ایران کو سخت فوجی نقصان پہنچانے کے لیے طاقت کا استعمال بھی کیا جاسکتا ہے۔
ٹرمپ نے انٹرویو کے دوران ایران کے جوہری پروگرام کو بھی اپنی گفتگو کا اہم موضوع بنایا اور ایک مرتبہ پھر واضح کیا کہ واشنگٹن تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل نہ کرسکے۔ امریکی صدر کے اس بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام کے معاملے پر اپنے سخت مؤقف میں نرمی کے لیے تیار نہیں۔
ایران کے خلاف ممکنہ فوجی اقدام سے متعلق ٹرمپ کے تازہ بیان نے خطے میں کشیدگی اور امریکا کی آئندہ حکمت عملی کے حوالے سے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ تاہم انٹرویو میں کسی مخصوص حملے کی تاریخ، ہدف یا فوجی منصوبے کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
دوسری جانب امریکی صدر نے ملک میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی مایوس کن کارکردگی پر بھی اظہار خیال کیا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے نے انتخابی نتائج کو متاثر کیا۔
ٹرمپ کے مطابق ایندھن مہنگا ہونے کی وجہ سے عام امریکی شہریوں کو اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑے، جسے ووٹرز نے پسند نہیں کیا۔ ان کے اس اعتراف سے ظاہر ہوتا ہے کہ مہنگائی اور پٹرول کی قیمتیں بھی انتخابی مہم کے دوران اہم سیاسی موضوعات میں شامل رہیں۔
امریکی صدر کے ایران سے متعلق سخت بیان اور وسط مدتی انتخابات پر تبصرے نے ایک مرتبہ پھر امریکی خارجہ پالیسی، علاقائی سلامتی اور داخلی سیاسی صورتحال کو توجہ کا مرکز بنا دیا ہے
