واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی خراب کارکردگی کے بعد انتخابی نتائج قبول کرنے اور ڈیموکریٹس کے ساتھ مل کر کام کرنے پر آمادگی ظاہر کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتیں اختلافات کے باوجود بعض معاملات پر مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرسکتی ہیں۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ انتخابی نتائج تسلیم کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ ان کے مطابق ڈیموکریٹس کے ساتھ تعاون کے امکانات موجود ہیں اور دونوں جماعتیں کسی ممکنہ سمجھوتے تک پہنچ سکتی ہیں۔
ٹرمپ نے ریپبلکن امیدواروں کی انتخابی ناکامی پر تبصرہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ ان کا اپنا نام بیلٹ پر موجود نہ ہونے کے باعث پارٹی کو مطلوبہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر وہ خود بھی انتخابی میدان میں ہوتے تو نتائج مختلف ہوسکتے تھے۔
امریکی صدر نے ان ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کے فیصلے کا بھی دفاع کیا جو انتخابات میں کامیابی حاصل نہ کرسکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انہیں ان امیدواروں کی حمایت کرنے پر کوئی پچھتاوا نہیں اور وہ اپنے فیصلے کو درست سمجھتے ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے ساتھ گفتگو میں ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے فیصلے کا بھی دفاع کیا۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ مستقبل کے حوالے سے دانش مندانہ تھا اور انہیں اس پر کوئی افسوس نہیں ہے۔
انتخابی نتائج سامنے آنے کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بھی ردعمل دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریپبلکن امیدواروں کی کامیابی اور ناکامی کے اسباب کا جائزہ لیں گے۔ اس دوران انہوں نے سیاسی معاملات پر مبصر کے طور پر اپنی رائے پیش کرنے کا عندیہ بھی دیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر ایک سرخ ٹوپی کی تصویر بھی شیئر کی، جس پر ’’ویٹو‘‘ کا لفظ درج تھا۔ اس اقدام کو ان کے اس سابقہ بیان سے جوڑا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس میں قانون سازی کے لیے اقدامات کریں گے تو وہ صدارتی ویٹو کا اختیار استعمال کرسکتے ہیں۔
ریپبلکن پارٹی کو انتخابی نتائج میں پیش آنے والے نقصان کے باوجود ٹرمپ نے اپنی دوسری صدارتی مدت کے ابتدائی دو برسوں کو کامیاب قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی حکومت کے اقدامات پر کوئی پچھتاوا نہیں اور وہ اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہیں۔
امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج نے واشنگٹن کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی کے امکانات پیدا کردیے ہیں۔ ڈیموکریٹس کی ممکنہ برتری کے تناظر میں آئندہ قانون سازی اور حکومتی پالیسیوں پر دونوں جماعتوں کے درمیان تعاون کے ساتھ اختلافات بھی اہمیت اختیار کرسکتے ہیں۔
