بھارت میں مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے بعد بھی طلبہ کی احتجاجی تحریک جاری ہے، جبکہ مختلف مقامات پر مظاہرین نے اپنے دیگر مطالبات کے حق میں نعرے بازی کی۔
سوشل میڈیا اور مختلف رپورٹس میں سامنے آنے والی ویڈیوز کے مطابق استعفے کے اعلان کے بعد احتجاجی مقامات پر موجود شرکا نے خوشی کا اظہار کیا اور بعض جگہوں پر جشن کا ماحول بھی دیکھنے میں آیا۔
احتجاج کے دوران بعض مظاہرین کی جانب سے وزیرِ اعظم نریندر مودی کے خلاف بھی نعرے لگائے گئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تحریک کے منتظمین اپنے مطالبات کو ابھی مکمل طور پر پورا شدہ نہیں سمجھتے۔
احتجاجی قیادت کا کہنا ہے کہ ان کی مہم صرف وزیرِ تعلیم کے استعفے تک محدود نہیں بلکہ وہ امتحانی نظام سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں پر مکمل تحقیقات، متاثرہ طلبہ اور خاندانوں کے لیے مناسب اقدامات، احتجاج کے دوران طاقت کے استعمال کے الزامات کی تحقیقات، متعلقہ اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی اور مظاہرین کے خلاف ممکنہ تادیبی اقدامات سے گریز جیسے مطالبات بھی پیش کر رہی ہے۔
مظاہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ جب تک ان کے اہم مطالبات پر پیش رفت نہیں ہوتی، وہ اپنی احتجاجی مہم جاری رکھیں گے۔ تاہم ان تمام دعوؤں اور مطالبات پر متعلقہ بھارتی حکام کا مؤقف سامنے آنا بھی اہم ہے۔
