ضلع گھوٹکی کے علاقے عادلپور کے نواحی گاؤں دڑو چاچڑ سے تعلق رکھنے والا 15 سالہ نوجوان صابر علی گزشتہ چار ماہ سے شدید زخمی حالت میں بستر تک محدود ہے۔ اہلِ خانہ کے مطابق ریڑھ کی ہڈی پر لگنے والی سنگین چوٹ کے باعث وہ معمول کی زندگی گزارنے سے قاصر ہے اور فوری طبی امداد کا منتظر ہے۔
اہلِ خانہ کے مطابق صابر علی روزگار کی تلاش میں کوئٹہ گیا تھا، جہاں ایک تعمیراتی مقام پر مزدوری کے دوران اچانک دیوار گرنے سے وہ ملبے تلے دب کر شدید زخمی ہوگیا۔ ابتدائی طبی امداد کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے آپریشن کے ذریعے اس کی ریڑھ کی ہڈی میں دھاتی راڈز نصب کیں۔
ورثا کا کہنا ہے کہ مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے آپریشن کے بعد ضروری علاج، معائنے اور فالو اپ جاری نہ رکھا جا سکا۔ ان کے مطابق علاج ادھورا رہ جانے کے باعث جسم میں نصب راڈز اپنی جگہ سے باہر آنے لگی ہیں، جس سے نوجوان مسلسل شدید درد اور تکلیف میں مبتلا ہے اور اس کی حالت روز بروز بگڑ رہی ہے۔
متاثرہ خاندان نے سندھ حکومت، ضلعی انتظامیہ، محکمہ صحت، فلاحی اداروں اور صاحبِ استطاعت افراد سے اپیل کی ہے کہ صابر علی کے فوری اور مکمل علاج کے لیے مالی اور طبی معاونت فراہم کی جائے تاکہ وہ دوبارہ صحت مند زندگی کی جانب لوٹ سکے۔ اہلِ خانہ کا کہنا ہے کہ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں نوجوان کی معذوری میں اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
