واشنگٹن: امریکا کی ایک ٹیکنالوجی کمپنی نے مصنوعی ذہانت
سے لیس ایسے جدید مائیکرو ڈرونز متعارف کرانے کا دعویٰ کیا ہے جو فضا میں اڑنے والے مچھروں کی شناخت، ان کا تعاقب اور انہیں ہدف بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں مچھروں سے پھیلنے والی بیماریوں کے خلاف مؤثر اور کم لاگت حل فراہم کر سکتی ہے۔
امریکی اسٹارٹ اپ ٹورنایول کے مطابق اس منصوبے کا مقصد روایتی کیمیائی اسپرے اور دیگر مہنگے طریقوں کا متبادل پیش کرنا ہے۔ کمپنی کا دعویٰ ہے کہ مصنوعی ذہانت پر مبنی یہ نظام مچھروں کے خاتمے کی لاگت کو موجودہ طریقوں کے مقابلے میں نمایاں حد تک کم کر سکتا ہے، جبکہ ماحول پر بھی نسبتاً کم منفی اثرات مرتب ہوں گے۔
کمپنی نے حال ہی میں ایک تجرباتی ویڈیو بھی جاری کی، جس میں ایک ننھا ڈرون فضا میں اڑتے ہوئے ایک کیڑے کا تعاقب کرتا اور اسے کامیابی سے نشانہ بناتا دکھائی دیتا ہے۔ اگرچہ یہ آزمائش مچھر کے بجائے ایک دوسرے اڑنے والے کیڑے پر کی گئی اور محدود ماحول میں انجام دی گئی، تاہم کمپنی اسے اپنی تحقیق میں اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔
کمپنی کے مطابق تیار کیے جانے والے مائیکرو ڈرونز کا وزن تقریباً 40 گرام ہوگا اور ان میں جدید سینسرز، مائیکروفون، الٹراسونک ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی سافٹ ویئر نصب ہوگا۔ یہ نظام اردگرد موجود اڑنے والے کیڑوں کی حرکات، آواز اور پرواز کے انداز کا تجزیہ کرکے مچھروں کو دیگر حشرات سے الگ شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
ٹیکنالوجی ماہرین کے مطابق اس قسم کے ڈرونز شہری علاقوں، پارکوں، آبی ذخائر اور دیگر مقامات پر مچھروں کی آبادی کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں، جس سے ڈینگی، ملیریا اور دیگر مچھروں سے منتقل ہونے والی بیماریوں کے خطرات کم کرنے میں بھی معاونت مل سکتی ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کی عملی افادیت کا اندازہ بڑے پیمانے پر فیلڈ ٹرائلز اور آزاد سائنسی جانچ کے بعد ہی لگایا جا سکے گا۔ اگر تجربات کامیاب رہے تو مصنوعی ذہانت سے چلنے والے یہ مائیکرو ڈرون مستقبل میں عوامی صحت کے شعبے میں ایک اہم تکنیکی پیش رفت ثابت ہو سکتے ہیں۔
