فیفا کے ایک متنازع ڈسپلنری فیصلے نے عالمی فٹبال میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں امریکی کھلاڑی فولارین بالوگن کی معطلی مؤخر کیے جانے پر کئی فٹبال اداروں نے اعتراضات اٹھا دیے ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ناروے فٹبال فیڈریشن اس معاملے کو فیفا کی ایتھکس کمیٹی کے سامنے لے جانے کے امکان کا جائزہ لے رہی ہے۔ فیڈریشن کا مؤقف ہے کہ اگر ڈسپلنری فیصلوں میں شفافیت برقرار نہ رکھی گئی تو کھیل کے نظام پر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے۔
بالوگن کو بوسنیا و ہرزیگووینا کے خلاف میچ کے دوران براہِ راست ریڈ کارڈ ملنے کے بعد اگلے ناک آؤٹ مقابلے کے لیے نااہل قرار دیا گیا تھا۔ بعد ازاں فیفا نے ان کی ایک میچ کی پابندی فوری نافذ کرنے کے بجائے بارہ ماہ کے لیے مؤخر کر دی، جس سے وہ بیلجیئم کے خلاف میچ کھیلنے کے اہل ہو گئے۔
رپورٹس میں یہ دعویٰ بھی سامنے آیا کہ فیصلے میں تبدیلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مبینہ مداخلت کے بعد کی گئی، تاہم اس حوالے سے فیفا نے کوئی باضابطہ وضاحت جاری نہیں کی۔ بیلجیئم کے خلاف مقابلے میں امریکی ٹیم کو 4-1 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو فیفا سے متعلق پہلے سےہی ایک اور شکایت کے ساتھ شامل کرنے کی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ تمام متعلقہ معاملات کا یکجا جائزہ لیا جا سکے۔
دوسری جانب بیلجیئم فٹبال فیڈریشن اور یورپی فٹبال تنظیم (یوئیفا) نے بھی فیفا کے فیصلے پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بیلجیئم نے اس فیصلے پر وضاحت طلب کی تھی، تاہم فیفا نے درخواست کو قابلِ سماعت قرار نہیں دیا اور اس پر مزید کارروائی نہیں کی۔
