سعودی ایئرپورٹس پر حملوں کا جواب، یمن میں حوثیوں کے 82 فوجی اہداف تباہ
ریاض: سعودی عرب کی قیادت میں قائم اتحاد نے یمن میں حوثی گروپ کے خلاف بڑی فضائی کارروائی کا دعویٰ کیا ہے۔ سعودی اتحاد کے مطابق یمن کے چار صوبوں میں حوثیوں کے 82 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کارروائی سعودی عرب کے شہری ہوائی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد کی گئی۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق فضائی کارروائیوں میں یمن کے صوبہ صعدہ، حدیدہ، الجوف اور مارب میں حوثیوں سے منسلک مختلف فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ کارروائی کا مقصد حوثی گروپ کی میزائل اور عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا تھا۔
ترجمان کے مطابق صعدہ میں پہاڑی علاقوں کے اندر موجود بیلسٹک میزائلوں کے ذخیرے سے متعلق 11 تنصیبات کو بھی کارروائی کا ہدف بنایا گیا۔ سعودی اتحاد نے دیگر نشانہ بننے والے مقامات میں حوثیوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز، مواصلاتی تنصیبات، میزائل اور ہتھیاروں کے گودام جبکہ جنگجوؤں کے اجتماع کے مقامات شامل ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔
میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ یہ کارروائی سعودی عرب کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر ہونے والے مبینہ حوثی حملوں کے ردعمل میں کی گئی۔ ان کے مطابق شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے والی کارروائیوں کو نظر انداز نہیں کیا جائے گا اور اس حوالے سے ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔
سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات میں 3 افراد ہلاک جبکہ 36 زخمی ہوئے۔ حوثی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سعودی عرب کے دونوں ہوائی اڈوں پر ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے حملے کیے گئے۔
یمن میں حوثیوں اور سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز کے درمیان جاری تنازع کے باعث صورتحال ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوگئی ہے۔ سعودی حمایت یافتہ یمنی فورسز حوثیوں کے زیر قبضہ علاقوں کو واپس لینے کی کوشش کر رہی ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں فوجی سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
خطے میں جاری وسیع تر کشیدگی نے بھی یمن کے تنازع کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ سعودی اتحاد کی تازہ کارروائی کے بعد خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ فریقین کے درمیان عسکری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔
دوسری جانب سعودی اتحاد کی جانب سے 82 فوجی اہداف تباہ کرنے اور ان کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے متعلق تمام تفصیلات کی آزاد ذرائع سے فوری طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔
