دس روپے کا کرنسی نوٹ مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز، نئے نوٹوں کے ڈیزائن پر کام جاری
اسلام آباد: وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے نئے کرنسی نوٹ متعارف کرانے کے عمل پر پیش رفت جاری ہے، جبکہ 10 روپے کے موجودہ کرنسی نوٹ کو مرحلہ وار گردش سے نکالنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے کے ساتھ ساتھ ان میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کرنے پر بھی کام کیا جا رہا ہے۔
نئے کرنسی نوٹوں سے متعلق یہ معاملہ سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں زیر بحث آیا۔ اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے نئے نوٹوں کے ڈیزائن، تیاری کے عمل، جعلی کرنسی کی روک تھام اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے نئے نوٹ جاری کرنے میں ہونے والی تاخیر پر سوالات اٹھائے۔
نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن پر کام چل رہا ہے
اسٹیٹ بینک حکام نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن تیار کیے جا رہے ہیں اور ان کے ڈیزائن کو متعلقہ فورمز سے منظوری کے لیے پیش کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق نئے نوٹوں میں جدید سیکیورٹی فیچرز شامل کیے جائیں گے تاکہ جعلی کرنسی کی روک تھام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
حکام کا کہنا تھا کہ 5 ہزار روپے کا موجودہ کرنسی نوٹ تقریباً دو دہائیاں قبل متعارف کرایا گیا تھا، اس لیے اب نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری میں طویل مدتی ضروریات اور جدید سیکیورٹی تقاضوں کو مدنظر رکھا جا رہا ہے۔
قائمہ کمیٹی کو بتایا گیا کہ نئے نوٹوں کے ڈیزائن فائنل کرنے کا عمل کابینہ کی متعلقہ کمیٹی کے ذریعے جاری ہے۔ اس حوالے سے ڈیزائن کنسلٹنٹ کی خدمات بھی حاصل کی گئی ہیں جبکہ نوٹوں کی طباعت اور سیکیورٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف مراحل پر کام کیا جا رہا ہے۔
10 روپے کے نوٹ کو ختم کرنے کی تجویز کیوں زیر غور ہے؟
اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق 10 روپے کے کرنسی نوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے کی ایک تجویز زیر غور ہے۔ حکام نے اس کی بنیادی وجہ کم مالیت کے نوٹ کی تیاری پر آنے والی نسبتاً زیادہ لاگت کو قرار دیا۔
کمیٹی کو بتایا گیا کہ کم مالیت کے کرنسی نوٹ کی تیاری اور اسے مسلسل گردش میں برقرار رکھنے کے اخراجات کو بھی مدنظر رکھا جا رہا ہے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی پالیسی اور عمل درآمد کی تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے طے کی جائیں گی۔
اس پیش رفت کا مطلب یہ ہے کہ 10 روپے کا نوٹ فوری طور پر مارکیٹ سے ختم نہیں کیا جا رہا بلکہ اسے مرحلہ وار گردش سے نکالنے کی تجویز پر غور ہو رہا ہے۔ اس لیے عوام کے لیے موجودہ 10 روپے کے نوٹ کی حیثیت میں فوری تبدیلی کی کوئی واضح تفصیل اجلاس میں سامنے نہیں آئی۔
5 ہزار اور ایک ہزار روپے کے نوٹ کی تیاری پر کتنی لاگت آتی ہے؟
قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں کرنسی نوٹوں کی تیاری کے اخراجات بھی زیر بحث آئے۔ اسٹیٹ بینک حکام نے بتایا کہ 5 ہزار اور ایک ہزار روپے کے کرنسی نوٹ کی تیاری پر تقریباً چودہ روپے فی نوٹ لاگت آتی ہے۔
حکام کے مطابق نئے نوٹوں کے ڈیزائن میں صرف ظاہری شکل کو تبدیل کرنا مقصد نہیں بلکہ جدید سیکیورٹی خصوصیات شامل کرنا بھی ضروری ہے۔ اس عمل میں ایسے فیچرز شامل کیے جا رہے ہیں جن سے جعلی نوٹوں کی شناخت اور روک تھام میں مدد مل سکے۔
سلیم مانڈوی والا کی اسٹیٹ بینک حکام پر تنقید
اجلاس کے دوران سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے چیئرمین سلیم مانڈوی والا نے نئے کرنسی نوٹوں کے معاملے میں تاخیر پر اسٹیٹ بینک حکام سے وضاحت طلب کی۔
انہوں نے بتایا کہ تقریباً دو سال قبل انہوں نے اسٹیٹ بینک کے ڈپٹی گورنر کو 5 ہزار روپے کے تین نوٹ دیے تھے، جن میں سے ایک نوٹ جعلی تھا، تاہم ان کے مطابق اسٹیٹ بینک حکام جعلی نوٹ کی بروقت نشاندہی نہیں کر سکے۔
سلیم مانڈوی والا نے اجلاس میں یہ بھی کہا کہ دو سال گزرنے کے باوجود مذکورہ تینوں نوٹ انہیں واپس نہیں کیے گئے۔ ان کے اس ریمارکس پر کمیٹی اجلاس میں دلچسپ صورتحال پیدا ہوگئی اور ارکان کے درمیان ہنسی مذاق بھی ہوا۔
چیئرمین کمیٹی نے نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری میں ہونے والی تاخیر پر بھی تحفظات کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر نئے نوٹوں کے ڈیزائن اور منظوری کا عمل اسی رفتار سے جاری رہا تو خدشہ ہے کہ کمیٹی کی موجودہ مدت ختم ہوجائے گی لیکن نئے نوٹ مارکیٹ میں نہیں آسکیں گے۔
انوشہ رحمان کا مصنوعی ذہانت کے استعمال پر سوال
قائمہ کمیٹی کی رکن انوشہ رحمان نے بھی نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن اور منظوری کے عمل پر سوالات اٹھائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اسٹیٹ بینک جدید ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت یعنی AI کا استعمال کیوں نہیں کرتا۔
انوشہ رحمان نے کہا کہ نئے نوٹ کے ڈیزائن کو پہلے ذیلی کمیٹی اور پھر دیگر متعلقہ فورمز سے منظوری لینے کے عمل میں مزید وقت لگ سکتا ہے۔ ان کے مطابق اگر ایک کمیٹی کی جانب سے منظور کیے گئے ڈیزائن میں بعد میں تبدیلی کی ضرورت پیش آگئی تو معاملہ دوبارہ متعلقہ فورم کے سامنے لے جانا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے اس عمل کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ طریقہ کار کے باعث نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری میں مزید تاخیر کا خدشہ موجود ہے۔
نئے نوٹوں میں جدید سیکیورٹی چیزیں ہوں گے
اسٹیٹ بینک حکام کے مطابق نئے کرنسی نوٹوں کی تیاری کے دوران سیکیورٹی کو بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے۔ نئے ڈیزائن میں جدید سیکیورٹی خصوصیات شامل کرنے کا مقصد جعلی کرنسی کی روک تھام اور اصلی نوٹ کی شناخت کو مزید آسان بنانا ہے۔
کرنسی نوٹ کسی بھی ملک کے مالیاتی نظام کا اہم حصہ ہوتے ہیں، اس لیے نئے نوٹ جاری کرنے سے قبل ڈیزائن، کاغذ، طباعت، سیکیورٹی فیچرز، مشینوں سے شناخت اور عوامی استعمال سمیت متعددپہلوؤں کاجائزہلیاجاتا ہے۔
اجلاس میں سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک نئے کرنسی نوٹوں کے ڈیزائن کو حتمی شکل دینے کے مرحلے میں ہے۔ دوسری جانب 10 روپے کے نوٹ کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز بھی اسی عمل کے دوران زیر غور ہے۔
