درآمدی کوئلے کی خریداری میں خامیاں سامنے آگئیں، پاور ڈویژن نے اصلاحات متعارف کرا دیں
پاور ڈویژن نے درآمدی کوئلے کی خریداری کے موجودہ طریقہ کار میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے نیپرا کو نئی اصلاحی گائیڈ لائنز جاری کردی ہیں۔ حکام کے مطابق مجوزہ اصلاحات سے خریداری کے ابتدائی مرحلے میں سالانہ تقریباً 38 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے۔
حکومت نے بجلی کی پیداوار میں استعمال ہونے والے درآمدی کوئلے کی خریداری، درآمد اور ترسیل کے نظام کو زیادہ شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے اصلاحاتی عمل شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں وزیر توانائی اویس لغاری کی زیرصدارت متعدد اجلاس منعقد ہوئے، جن میں کوئلے کی خریداری سے متعلق ڈیٹا، موجودہ معاہدوں اور عالمی مارکیٹ کے طریقہ کار کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کوئلے کی خریداری میں نئی پالیسی کیا ہوگی؟
پاور ڈویژن کے مطابق آئندہ کوئلہ خریدتے وقت بہترین دستیاب رعایت کو بنیادی اصول بنایا جائے گا۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ کول پاور پلانٹس ایسے عالمی سپلائر سے کوئلہ خریدنے سے گریز کریں جو مارکیٹ میں دستیاب دیگر آپشنز کے مقابلے میں کم رعایت دے رہا ہو۔
حکام کے مطابق ماضی میں ایک ہی سپلائر کی جانب سے مختلف پاور پلانٹس کو کوئلے پر مختلف رعایتیں دی جاتی رہی ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے جائزے میں بعض معاملات میں رعایت کی شرح صرف 25 سینٹ فی ٹن جبکہ بعض کیسز میں 7.12 ڈالر فی ٹن تک سامنے آئی۔
پاور ڈویژن کا کہنا ہے کہ اس فرق کی وجوہات اور خریداری کے فیصلوں کا جائزہ لینے کے بعد مستقبل میں زیادہ مسابقتی اور شفاف طریقہ کار اختیار کیا جائے گا۔
مختلف معاہدوں میں رعایت کا فرق
حکام کے جائزے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ بعض بیک اپ سپلائی معاہدوں میں مرکزی سپلائی معاہدوں کے مقابلے میں زیادہ رعایت حاصل کی گئی۔
پاور ڈویژن کے مطابق بعض مواقع پر پاور پلانٹس کے پاس زیادہ رعایت فراہم کرنے والے سپلائر سے کوئلہ خریدنے کا معاہداتی راستہ موجود تھا، لیکن اس کے باوجود اس آپشن سے استفادہ نہیں کیا گیا۔ نتیجتاً ایندھن کی اضافی لاگت بالآخر بجلی کے صارفین پر منتقل ہونے کا امکان پیدا ہوا۔
صارفین کو براہِ راست فائدہ پہنچانے کا دعویٰ
وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ حکومت کا مقصد تجارتی معاملات میں غیر ضروری مداخلت کرنا نہیں بلکہ ایسے اخراجات کو کم کرنا ہے جن کا بوجھ بجلی صارفین برداشت کرتے ہیں۔
ان کے مطابق بجلی کی پیداوار میں ایندھن کی لاگت اہم حصہ رکھتی ہے، اس لیے کوئلے سمیت دیگر ایندھن کی خریداری کا عمل شفاف، مسابقتی اور ڈیٹا کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
وزیر توانائی نے کہا کہ پاور ڈویژن مارکیٹ اور دستیاب ڈیٹا کا تجزیہ کرکے خامیوں کی نشاندہی کر رہا ہے، جبکہ ان مسائل کو پالیسی اور ریگولیٹری اقدامات کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
سالانہ 38 کروڑ روپے کی ممکنہ بچت
پاور ڈویژن کے مطابق نئی گائیڈ لائنز پر عمل درآمد سے صرف خریداری سے پہلے کے مرحلے میں سالانہ تقریباً 380 ملین روپے، یعنی 38 کروڑ روپے کی بچت ہوسکتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کی اصلاحات سے ایندھن کی خریداری کے اخراجات میں کمی لانے کے ساتھ ساتھ بجلی کے شعبے میں شفافیت اور مسابقت کو بھی فروغ ملے گا۔
بجلی صارفین کے لیے کیا اہمیت ہے؟
درآمدی کوئلے کی قیمت میں معمولی فرق بھی بڑے پیمانے پر بجلی پیدا کرنے والے پلانٹس کے مجموعی اخراجات پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔ چونکہ ایندھن کی لاگت بالآخر بجلی کے نرخوں اور صارفین کے مالی بوجھ سے جڑی ہوتی ہے، اس لیے حکومت کا مؤقف ہے کہ خریداری کے عمل میں بہتر رعایت اور مسابقتی قیمت کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
اگر نئی گائیڈ لائنز مؤثر انداز میں نافذ ہوتی ہیں تو حکومت کو توقع ہے کہ غیر ضروری اخراجات کم ہوں گے اور اس کے نتیجے میں بجلی صارفین کو مالی ریلیف مل سکے گا۔
خلاصہ
پاور ڈویژن نے درآمدی کوئلے کی خریداری کے طریقہ کار میں موجود خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے نئی اصلاحی گائیڈ لائنز متعارف کرائی ہیں۔ نئی پالیسی میں بہترین دستیاب رعایت کو ترجیح دینے پر زور دیا گیا ہے، جبکہ حکام کے مطابق اس اقدام سے سالانہ تقریباً 38 کروڑ روپے کی بچت متوقع ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا بنیادی مقصد خریداری کے عمل کو شفاف بنانا، غیر ضروری اخراجات کم کرنا اور اس کا فائدہ بالآخر بجلی صارفین تک پہنچانا ہے۔
