کراچی: وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے کردار اور اختیارات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حکومت میں ان کا اثر و رسوخ غیر معمولی ہے اور کئی معاملات میں وہ وزیراعظم کو بھی جوابدہ نہیں سمجھتے۔
ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اگرچہ محسن نقوی کابینہ کا حصہ ہیں، تاہم وہ حکومتی امور میں روایتی انداز سے شریک نظر نہیں آتے۔ ان کے بقول کابینہ کے اجلاسوں میں بھی ان کی شرکت انتہائی محدود رہی ہے۔
وزیر دفاع نے مزید کہا کہ پارلیمنٹ میں بھی وزیر داخلہ کی حاضری بہت کم دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کا ایک اہم وزیر خود موجودہ نظام پر عدم اطمینان کا اظہار کر رہا ہے تو یہ صورتحال حکومت کے لیے سنجیدہ غور و فکر کا تقاضا کرتی ہے۔
خواجہ آصف نے یہ بھی کہا کہ اگر حکومتی ڈھانچے پر اس نوعیت کے تحفظات کابینہ کے اندر سے سامنے آ رہے ہیں تو پھر حکومت کو اپنی پالیسیوں اور کارکردگی کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے۔
دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے حالیہ بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ موجودہ انتظامی نظام ملک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت ختم کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اصلاحات نہ کی گئیں تو آنے والے برسوں میں بھی مسائل جوں کے توں برقرار رہیں گے۔
محسن نقوی کے مطابق پاکستان میں مؤثر طرزِ حکمرانی، بہتر عوامی خدمات اور متوازن ترقی کے لیے نئے انتظامی یونٹس یا مزید صوبوں کے قیام پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق ریاستی نظام کو زیادہ فعال بنایا جا سکے۔
