جرمنی میں فنگر ریسلنگ کی 65ویں چیمپئن شپ، 150 کھلاڑیوں نے حصہ لیا
جرمنی کے صوبے باویریا میں فنگر ریسلنگ کی 65ویں قومی چیمپئن شپ منعقد ہوئی، جس میں تقریباً 150 کھلاڑیوں نے انگلیوں کی غیر معمولی طاقت کا مظاہرہ کیا۔ منفرد کھیل کے اس مقابلے نے شائقین کی توجہ حاصل کی۔
یہ مقابلہ باویریا کے علاقے پفلگ ڈورف-اشٹادل میں منعقد ہوا، جہاں مختلف کیٹیگریز سے تعلق رکھنے والے کھلاڑیوں نے فنگر ریسلنگ کے مقابلوں میں حصہ لیا۔
فنگر ریسلنگ کا مقابلہ کیسے ہوتا ہے؟
فنگر ریسلنگ بظاہر سادہ لیکن جسمانی طاقت اور برداشت کا امتحان لینے والا کھیل ہے۔ مقابلے کے دوران دو کھلاڑی میز کے دونوں جانب آمنے سامنے بیٹھتے ہیں۔
دونوں اپنی درمیانی انگلیوں کو ایک خاص چمڑے کے حلقے میں ڈالتے ہیں۔ مقابلہ شروع ہوتے ہی ہر کھلاڑی اپنے حریف کی انگلی کو اپنی جانب کھینچنے کی کوشش کرتا ہے۔
جس کھلاڑی کی انگلی پہلے مقررہ حد تک کھینچ لی جائے، وہ مقابلہ ہار جاتا ہے۔
چند سیکنڈ میں فیصلہ، بعض مقابلے طویل بھی
فنگر ریسلنگ کے زیادہ تر مقابلوں کا فیصلہ چند سیکنڈ میں ہوجاتا ہے، تاہم بعض اوقات دونوں کھلاڑی ایک دوسرے کا سخت مقابلہ کرتے ہوئے تقریباً ایک منٹ تک اپنی گرفت برقرار رکھتے ہیں۔
اس کھیل میں انگلیوں کی طاقت کے ساتھ ساتھ گرفت، توازن اور درد برداشت کرنے کی صلاحیت بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
باویریا میں منفرد کھیل کی مقبولیت
فنگر ریسلنگ کا تعلق الپائن خطے سے جوڑا جاتا ہے اور یہ کھیل جرمنی کے باویریا کے علاقے میں آج بھی خاصی مقبولیت رکھتا ہے۔
روایتی کھیل ہونے کے باعث اس کے مقابلے مقامی سطح پر شائقین کی توجہ حاصل کرتے ہیں اور وقت کے ساتھ فنگر ریسلنگ کی باقاعدہ چیمپئن شپ بھی منعقد کی جاتی رہی ہے۔
فریڈینانڈ زائٹز نے سینئر ٹائٹل جیت لیا
اس سال کی چیمپئن شپ میں سینئر کیٹیگری کا ٹائٹل فریڈینانڈ زائٹز نے اپنے نام کیا۔
چیمپئن شپ کے بعد گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مقابلے کے دوران ہونے والے درد کو انتہائی شدید قرار دیا۔ ان کے مطابق فنگر ریسلنگ میں کامیابی کے لیے صرف طاقت کافی نہیں بلکہ درد برداشت کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔
انگلیوں کی طاقت کا منفرد امتحان
فنگر ریسلنگ عام کھیلوں کے مقابلے میں ایک غیر معمولی مقابلہ ہے، لیکن باویریا میں اس کی اپنی ایک روایتی اور ثقافتی حیثیت ہے۔ ہر سال ہونے والی چیمپئن شپ میں کھلاڑی اپنی جسمانی طاقت اور مہارت کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
65ویں چیمپئن شپ میں تقریباً 150 افراد کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ روایتی کھیل آج بھی مقامی سطح پر دلچسپی کا باعث بنا ہوا ہے۔
