چین میں 2300 سال پرانی شراب آثارِ قدیمہ کی کھدائی کے دوران محفوظ حالت میں دریافت ہوئی ہے، جس نے ماہرین آثارِ قدیمہ کی توجہ حاصل کرلی۔ یہ قدیم شراب شانجیاباؤ کے ایک قبرستان سے ملی، جو تاریخی کِن گریٹ وال سے تقریباً 2 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ دریافت قدیم چین میں اناج کے استعمال، شراب بنانے کے طریقوں اور اس دور میں مشروبات پینے کے رواج کو سمجھنے میں اہم معلومات فراہم کرسکتی ہے۔

2300 سال پرانی شراب کہاں سے ملی؟

ماحرین کی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ شانجیاؤ کے قدیم قبرستان مکی کھدائی کے دوران ایک مکمل طور پرمہربند جار سے یہ قدیم شراب برآمد ہوئی ہے۔ حیران کن طور پر ہزاروں سال گزرنے کے باوجود یہ برتن محفوظ حالت میں موجود تھا اور اس کی سطح بھی چمکدار تھی۔

آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے لیے اس دریافت کی خاص اہمیت اس لیے ہے کہ قدیم دور کے مائع یا نامیاتی مواد کا اتنے طویل عرصے تک محفوظ رہنا انتہائی غیر معمولی سمجھا جاتا ہے۔

کِن گریٹ وال کیا ہے؟

کِن گریٹ وال چین کی قدیم ترین عظیم دفاعی دیواروں میں شامل ہے اور اس کی تاریخ تقریباً 2300 سال پرانی بتائی جاتی ہے۔ یہ دیوار قدیم چین میں مختلف ریاستوں کے درمیان جنگوں کے دوران دفاعی مقاصد کے لیے تعمیر کیے گئے حصوں میں شامل تھی۔

بعد کے ادوار میں چین کی مختلف دفاعی دیواروں کو وسعت دی گئی، جنہوں نے موجودہ گریٹ وال آف چائنا کی تاریخی بنیاد بنانے میں کردار ادا کیا۔

کِن گریٹ وال کو جدید چینی تاریخ میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔ سابق چینی رہنما ماؤ زے تنگ نے اکتوبر 1935 میں ریڈ آرمی کے لانگ مارچ کے دوران گانسو کے علاقے سے گزرتے ہوئے اپنی ایک نظم میں کِن گریٹ وال کا ذکر بھی کیا تھا۔

قدیم چین میں شراب کیسے تیار کی جاتی تھی؟

2300 سال پرانی چینی شراب کی یہ دریافت ماہرین کو قدیم دور میں اناج کے استعمال اور مشروبات کی تیاری کے طریقوں کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

نارتھ ویسٹ یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی امیدوار اور تحقیق کے پہلے مصنف چن رورو کے مطابق اس قسم کے آثار قدیمہ کے شواہد سے قدیم لوگوں کی خوراک اور مشروبات تیار کرنے کی تکنیکوں کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔

تحقیق سے یہ جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ قدیم چینی معاشرے میں مختلف اناج کو کس طرح استعمال کیا جاتا تھا اور ان سے مشروبات تیار کرنے کے لیے کون سے طریقے اختیار کیے جاتے تھے۔

جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس میں تحقیق

چین سے ملنے والی قدیم شراب پر مبنی ایک تحقیق مطالعہ جرنل آف آرکیالوجیکل سائنس کے شمارے میں شائع کیا گیا ہے۔ اس تحقیق میں مہرین نے دریافت شدہ برتن اور اس کے اندر موجود مواد کا سائنسی جائزہ لیا تاکہ قدیم دور کے مشروبات اور ان کی تیاری کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جاسکیں۔

تحقیق کے مطابق جار کا مکمل طور پر بند ہونا اس دریافت کو خاص اہمیت دیتا ہے، کیونکہ اس حالت میں اندر موجود مواد بیرونی ماحول سے کافی حد تک محفوظ رہا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد قدیم تہذیبوں کے طرز زندگی اور غذائی عادات کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔

آثار قدیمہ کی اہم دریافت

شانجیاباؤ قبرستان سے ملنے والی 2300 سال پرانی شراب صرف ایک قدیم مشروب کی دریافت نہیں بلکہ قدیم چینی معاشرے کے بارے میں تحقیق کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔

قبرستان سے ملنے والی دیگر اشیا کے ساتھ اس قدیم جار کا مطالعہ کرکے ماہرین اس دور کے لوگوں کی خوراک، رسومات، اناج کے استعمال اور مشروبات سے متعلق عادات کو بہتر طور پر سمجھنے کی کاوشیں کر رہے ہیں۔

قدیم شراب کا محفوظ حالت میں ملنا اس لحاظ سے بھی غیر معمولی ہے کہ ہزاروں سال کے دوران عام طور پر مائع اور دیگر نامیاتی مواد کے آثار ختم ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اس دریافت سے حاصل ہونے والی معلومات قدیم چین کی تاریخ اور ثقافت پر مزید تحقیق کے لیے اہم ثابت ہوسکتی ہیں۔

چین میں 2300 سال پرانی شراب کی دریافت نے قدیم چینی تہذیب میں مشروبات کی تیاری اور اناج کے استعمال سے متعلق تحقیق کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ ماہرین اب اس نایاب دریافت کے مزید سائنسی تجزیے کے ذریعے یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہزاروں سال قبل چین میں شراب سازی کس حد تک ترقی یافتہ تھی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *