جاپانی وزیراعظم کو کاکروچ کے خاتمے پر بھی اداسی کیوں ہوئی؟ دلچسپ واقعہ سامنے آگیا
ٹوکیو: جاپان کی وزیراعظم سانائے تاکائچی نے اپنی سرکاری رہائش گاہ میں کاکروچ کی موجودگی اور اس کے خاتمے سے متعلق ایک دلچسپ واقعہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس نے صارفین کی توجہ حاصل کرلی۔
وزیراعظم نے بتایا کہ سرکاری رہائش گاہ کے بارے میں ان سے اکثر پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہاں انہیں کبھی بھوت نظر آیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں تو کوئی بھوت دکھائی نہیں دیا، تاہم ایک مرتبہ کاکروچ ضرور نظر آیا جسے دیکھ کر وہ چیخ پڑی تھیں۔
کاکروچ کو خود ختم کیوں نہیں کیا؟
سانائے تاکائچی کے مطابق وہ بچپن سے جاپانی مصنف اوسامو تیزوکا کی معروف مانگا سیریز فینکس (Phoenix) پڑھتی رہی ہیں، جس میں دوبارہ جنم اور زندگی کے تسلسل جیسے تصورات نمایاں ہیں۔ اسی وجہ سے ان کا کہنا ہے کہ وہ عام طور پر کیڑے مکوڑوں کو مارنے سے گریز کرتی ہیں۔
وزیراعظم نے بتایا کہ جب انہیں سرکاری رہائش گاہ میں کاکروچ نظر آیا تو انہوں نے اسے خود ختم کرنے کے بجائے امید رکھی کہ وہ کسی طرح وہاں سے چلا جائے گا۔ بعد میں جب انہوں نے اپنے معاونین کو صورتحال سے آگاہ کیا تو عملے نے صفائی اور صحت کے خدشات کے پیش نظر کاکروچ سے نمٹنے کا فیصلہ کیا۔
کاکروچ کے جانے پر وزیراعظم کو کیا محسوس ہوا؟
کاکروچ کے دوبارہ نظر نہ آنے پر وزیراعظم نے ایک طرف اطمینان کا اظہار کیا، تاہم ان کے مطابق انہیں ایک عجیب سی تنہائی اور اداسی بھی محسوس ہوئی۔ ان کی یہ بات سوشل میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا میں دلچسپی کا باعث بنی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض غیر ملکی میڈیا رپورٹس نے اس واقعے کو اس انداز میں پیش کیا جیسے جاپانی وزیراعظم نے کاکروچ سے دوستی کرلی تھی، تاہم ان کے اصل بیان کا مفہوم یہ تھا کہ کاکروچ کے خاتمے کے بعد انہیں کچھ اداسی محسوس ہوئی تھی۔
سرکاری رہائش گاہ سے متعلق بھوتوں کی افواہیں
جاپانی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ طویل عرصے سے مبینہ طور پر پراسرار واقعات سے متعلق افواہوں کی وجہ سے بھی زیر بحث رہی ہے۔ تاہم سانائے تاکائچی نے واضح کیا کہ انہیں وہاں اب تک کسی بھوت کا سامنا نہیں ہوا۔
