ترکیہ میں تاریخی قانون منظور، پی کے کے کے ساتھ امن عمل آگے بڑھانے کی راہ ہموار
انقرہ: ترکیہ کی پارلیمنٹ نے ایک اہم اور تاریخی قانون کی منظوری دے دی ہے، جس کے تحت کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) کے ساتھ جاری امن عمل کو آگے بڑھانے اور طویل عرصے سے جاری تنازع کے خاتمے کی کوششوں کو قانونی بنیاد فراہم کی جائے گی۔ اس قانون سازی کو ترکیہ میں دہائیوں سے جاری مسلح کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ترک پارلیمنٹ میں ’’قومی و سماجی یکجہتی‘‘ کے عنوان سے پیش کیے جانے والے قانونی مسودے پر تقریباً 12 گھنٹے تک تفصیلی بحث اور غور کیا گیا۔ طویل اجلاس کے بعد بل کو بھاری اکثریت سے منظور کر لیا گیا۔ قانون کے حق میں 468 ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ 88 ارکان نے مخالفت کی۔ اجلاس کے دوران 6 ارکان غیر حاضر رہے۔
ترک پارلیمنٹ سے اس قانون کی منظوری ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حکومت اور کرد سیاسی قوتوں کی جانب سے کئی برسوں سے جاری تنازع کو سیاسی اور پُرامن طریقے سے ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اس تنازع میں گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دسیوں ہزار افراد جان سے جا چکے ہیں، جبکہ ترکیہ اور خطے کے دیگر علاقوں میں طویل عرصے تک سیکیورٹی اور سیاسی کشیدگی برقرار رہی۔
دہائیوں پر محیط تنازع کے خاتمے کی کوشش
کردستان ورکرز پارٹی، جسے ترکیہ سمیت متعدد ممالک دہشتگرد تنظیم قرار دیتے ہیں، اور ترک ریاست کے درمیان مسلح تنازع کئی دہائیوں سے جاری رہا ہے۔ اس دوران ترکیہ کے مختلف علاقوں کے علاوہ عراق کے شمالی حصے میں بھی سیکیورٹی صورتحال متاثر ہوتی رہی۔
نئے قانون کی منظوری کو اس طویل تنازع کے سیاسی حل کی جانب ایک اہم قدم سمجھا جا رہا ہے۔ قانون کے ذریعے ایسے افراد کے لیے معاشرے میں دوبارہ شمولیت کا راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو مسلح سرگرمیوں سے الگ ہو کر معمول کی زندگی کی طرف واپس آنا چاہتے ہیں۔
حکام اور قانون سازوں کی جانب سے اس عمل کو صرف سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے نہیں بلکہ سماجی اور قومی سطح پر مفاہمت کے ایک وسیع منصوبے کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔ قانون سازی کا بنیادی مقصد تنازع کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خلیج کو کم کرنا اور سابق جنگجوؤں کو قانونی طریقہ کار کے تحت معاشرے کا حصہ بننے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
سابق جنگجوؤں کی دوبارہ معاشرے میں شمولیت
ترک پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے قانون میں پی کے کے کے سابق جنگجوؤں کی معاشرے میں دوبارہ شمولیت کے لیے ایک طریقہ کار وضع کیا گیا ہے۔ اس قانون کا اطلاق ان افراد پر ہوگا جو متعلقہ حکام کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے کہ وہ قانون کی متعلقہ دفعات سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔
اس عمل کے لیے ایک بنیادی شرط یہ بھی رکھی گئی ہے کہ متعلقہ افراد اس بات کی تصدیق کریں کہ پی کے کے نے اپنی مسلح سرگرمیاں مکمل طور پر ختم کر دی ہیں اور ہتھیار ڈالنے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔
اس قانونی اقدام کے ذریعے حکومت کا مقصد ایسے افراد کو دوبارہ عام شہری زندگی میں لانے کے عمل کو منظم اور قانونی بنانا ہے۔ اس سے متعلقہ اداروں کو بھی یہ اختیار ملے گا کہ وہ ہر کیس کو مقررہ قانونی طریقہ کار کے تحت دیکھیں اور اس بات کا تعین کریں کہ کون سے افراد قانون کے تحت دی جانے والی سہولت کے اہل ہیں۔
پی کے کے کی سرگرمیوں میں کمی
رپورٹس کے مطابق پی کے کے نے ترکیہ کے ساتھ طویل مسلح تنازع کے بعد اپنی سرگرمیوں میں کمی کی جانب بھی اقدامات کیے ہیں۔ مسلح گروپ نے انقرہ کے خلاف چار دہائیوں سے زائد عرصے تک مسلح جدوجہد جاری رکھی۔
بعد ازاں تنظیم کی جانب سے عراق کے کردستان ریجن میں قائم بعض فوجی پوزیشنز سے انخلا کا عمل بھی سامنے آیا۔ اس کے بعد جولائی 2025 میں سلیمانی میں ایک رسمی تقریب کے دوران ہتھیار ڈالنے یا تخفیف اسلحہ کے عمل کی پیش رفت بھی رپورٹ کی گئی۔
ان اقدامات نے ترکیہ اور کرد سیاسی قوتوں کے درمیان امن عمل کے لیے ایک نئی صورتحال پیدا کی۔ ترک پارلیمنٹ کی جانب سے نئی قانون سازی کو اسی سلسلے کی کڑی قرار دیا جا رہا ہے، جس کے ذریعے مسلح تنازع کے بجائے سیاسی اور قانونی طریقہ کار کو آگے بڑھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
امن عمل کیلئے اہم مرحلہ
کرد سیاسی قوتوں کی جانب سے طویل عرصے سے اس بات پر زور دیا جاتا رہا ہے کہ تنازع کا مستقل حل صرف فوجی کارروائیوں کے ذریعے ممکن نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی سطح پر بھی اقدامات ضروری ہیں۔ پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے قانون کو اس حوالے سے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
نئی قانون سازی کے نتیجے میں سابق جنگجوؤں کی واپسی، ان کی معاشرتی بحالی اور تنازع سے متاثرہ علاقوں میں معمول کی صورتحال کی بحالی کے امکانات پیدا ہوئے ہیں۔ تاہم اس عمل کی کامیابی کا انحصار قانون پر مؤثر عمل درآمد اور فریقین کے درمیان اعتماد برقرار رکھنے پر ہوگا۔
ترکیہ کے لیے یہ پیش رفت اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ ملک کئی دہائیوں سے پی کے کے کے ساتھ جاری مسلح تنازع کا سامنا کرتا رہا ہے۔ اس دوران سیکیورٹی آپریشنز، حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔
سیاسی حل کی جانب نئی پیش رفت
پارلیمنٹ سے بھاری اکثریت کے ساتھ قانون کی منظوری کو حکومت کی جانب سے تنازع کے سیاسی حل کے لیے سنجیدہ کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس قانون کے ذریعے مسلح تنازع کو ختم کرنے، سابق جنگجوؤں کو معاشرے میں واپس لانے اور قومی یکجہتی کو مضبوط بنانے کے لیے قانونی راستہ فراہم کیا گیا ہے۔
اگر امن عمل طے شدہ طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھتا ہے تو اس کے نتیجے میں ترکیہ اور خطے میں طویل عرصے سے جاری کشیدگی میں کمی آنے کی توقع کی جاسکتی ہے۔ تاہم امن معاہدے کی مکمل کامیابی کے لیے فریقین کی جانب سے مستقل تعاون، مسلح سرگرمیوں کا خاتمہ اور قانونی شرائط پر عمل درآمد بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
ترک پارلیمنٹ کی جانب سے منظور کیا جانے والا یہ قانون اسی لیے تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کہ اس کے ذریعے دہائیوں پرانے تنازع کو سیاسی، قانونی اور سماجی اقدامات کے ذریعے ختم کرنے کی کوشش کو باضابطہ شکل دی گئی ہے۔
