ایرانی آرمی چیف کا اعلان، حقوق تسلیم ہونے تک آبنائے ہرمز بند رہے گی

تہران: ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے آبنائے ہرمز کی بندش کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کیے جانے تک یہ اہم سمندری گزرگاہ بند رہے گی۔ ان کے مطابق مخالف فریق نے ایران کی دفاعی طاقت اور عسکری صلاحیتوں کا درست اندازہ لگانے میں غلطی کی۔

ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کی رپورٹ کے مطابق امیر حاتمی نے جمعرات کو تہران کی امام علی ملٹری یونیورسٹی میں ایک تقریب سے خطاب کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران کو کمزور سمجھنا اور اس کی فوجی صلاحیتوں کو نظرانداز کرنا مخالف فریق کی غلط حکمت عملی کا حصہ تھا۔

ایرانی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ مخالف فریق نے ایران کی پوزیشن کے بارے میں غلط اندازے قائم کیے، جس کے نتیجے میں صورتحال کو سمجھنے میں غلطی ہوئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی مسلح افواج نے ان اندازوں کے برعکس اپنی دفاعی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا۔

امیر حاتمی نے مزید دعویٰ کیا کہ جنگ کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب نے جوابی کارروائیاں کیں اور مخالف فریق کے خلاف سیکڑوں حملے کیے۔ یہ دعوے ایرانی آرمی چیف کے بیان پر مبنی ہیں اور ان کی آزاد ذرائع سے تصدیق الگ معاملہ ہے۔

آبنائے ہرمز کی بندش عالمی معیشت پر اثرانداز ہو سکتی ہے

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں کو بڑی مقدار میں خام تیل اور دیگر توانائی کی مصنوعات پہنچائی جاتی ہیں۔ اس راستے پر بحری نقل و حرکت متاثر ہونے سے عالمی توانائی کی فراہمی، تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

ایرانی آرمی چیف کا بیان اس اہم گزرگاہ کی سکیورٹی اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ آبنائے ہرمز کی صورتحال نہ صرف خلیجی ممالک بلکہ توانائی درآمد کرنے والے متعدد ممالک کے لیے بھی اہمیت رکھتی ہے۔

اگر اس راستے سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں رکاوٹ برقرار رہتی ہے تو تیل کی عالمی رسد اور توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ تاہم ان اثرات کی شدت کا انحصار زمینی اور بحری صورتحال، جہازوں کی نقل و حرکت اور متعلقہ فریقوں کے آئندہ اقدامات پر ہوگا۔

ایرانی آرمی چیف کے اعلان کے بعد آبنائے ہرمز سے متعلق پیش رفت پر عالمی توجہ برقرار رہنے کا امکان ہے۔ اس حوالے سے عملی صورتحال اور بحری آمدورفت کی تازہ تفصیلات کی تصدیق مستند ذرائع سے ضروری ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *