امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ تین روزہ دورے پر بیجنگ پہنچ گئے، پرتپاک استقبال
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے متوقع تین روزہ دورۂ چین میں صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات کریں گے، جس میں دونوں رہنما عالمی اقتصادی صورتحال، دوطرفہ تجارت اور جاری تجارتی تنازعات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ اس سے قبل 2017 میں بھی چین کا سرکاری دورہ کر چکے ہیں۔
چین روانگی سے پہلے واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف اختیار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ ایران کو جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت دینے کی بات کرتے ہیں، وہ دانشمندی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ مثبت اور متوازن معاہدہ چاہتا ہے، اور انہیں امید ہے کہ ایسا معاہدہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہوگا۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اگر صورتحال بگڑتی ہے تو امریکا ہر ممکن طریقے سے اپنی کامیابی یقینی بنائے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ چین کے دورے کے دوران ایرانی تنازع، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال اور ممکنہ جنگی خطرات پر بھی چینی قیادت سے تفصیلی گفتگو ہوگی، اگرچہ ان کے بقول ایران کے معاملے میں امریکا کو بیجنگ کی مدد درکار نہیں۔
امریکی صدر نے پاکستان کے سفارتی کردار کی بھی تعریف کی اور کہا کہ پاکستان نے مذاکراتی عمل میں انتہائی مؤثر کردار ادا کیا۔ انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کو باصلاحیت قیادت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی ثالثی کی کوششیں قابلِ ستائش ہیں۔