افغانستان میں خواتین کے حقوق سے متعلق خدشات برقرار، عالمی سطح پر تشویش کا اظہار
افغانستان میں خواتین کے حقوق اور سماجی آزادیوں سے متعلق عالمی سطح پر تشویش بدستور برقرار ہے۔ مختلف بین الاقوامی اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں خواتین کی تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شرکت پر عائد پابندیوں نے ان کے بنیادی حقوق سے متعلق سنگین سوالات کو جنم دیا ہے۔
بین الاقوامی تجزیوں کے مطابق 2021 کے بعد افغانستان میں لڑکیوں کی ثانوی اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی شدید متاثر ہوئی، جبکہ متعدد شعبوں میں خواتین کی ملازمت اور پیشہ ورانہ سرگرمیوں پر بھی مختلف نوعیت کی پابندیاں نافذ کی گئیں۔ ناقدین کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کے باعث خواتین کی سماجی اور معاشی شرکت محدود ہو کر رہ گئی ہے۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری اداروں میں خواتین کی نمائندگی میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس سے مختلف شعبوں، خصوصاً تعلیم، صحت اور سماجی خدمات کی فراہمی پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ اور دیگر عالمی ادارے مسلسل خبردار کرتے رہے ہیں کہ اگر خواتین کی تعلیم، روزگار اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع محدود رہے تو اس کے اثرات نہ صرف موجودہ نسل بلکہ مستقبل کی معاشی، سماجی اور انسانی ترقی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
ماہرینِ معاشیات کا کہنا ہے کہ خواتین کی محدود معاشی شمولیت افغانستان کی مجموعی معیشت پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ان کے مطابق خواتین کی افرادی قوت میں کمی کے باعث ملکی پیداوار، سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے امکانات متاثر ہو سکتے ہیں۔
افغان خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ خواتین کو تعلیم، ملازمت اور سماجی سرگرمیوں میں مساوی مواقع فراہم کیے بغیر معاشرے کی متوازن ترقی ممکن نہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ پائیدار امن اور ترقی کے لیے خواتین کی فعال شرکت ناگزیر ہے۔
انسانی حقوق کے مبصرین کے مطابق افغانستان میں خواتین کے بنیادی حقوق، تعلیم، روزگار اور عوامی زندگی میں شمولیت سے متعلق صورتحال بدستور عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے، جبکہ بین الاقوامی برادری اس حوالے سے مثبت پیش رفت کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔
