آئی ایم ایف سے پاکستان کیلئے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی راہ ہموار
اسلام آباد: پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت ملک کے لیے تقریباً 1.2 ارب ڈالر کی نئی مالی معاونت حاصل ہونے کا امکان پیدا ہوگیا ہے۔ آئی ایم ایف کے عملے اور پاکستانی حکام کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا ہے، تاہم رقم کے اجرا کے لیے ادارے کے ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری ضروری ہوگی۔
آئی ایم ایف کی جانب سے جاری بیان کے مطابق پاکستان کے لیے 2026 کا چوتھا مشاورتی جائزہ مکمل کرلیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ 37 ماہ پر مشتمل ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) اور 28 ماہ کی ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) کے تحت بھی اسٹاف لیول معاہدہ طے پایا ہے۔
معاہدے کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے دی جائے گی۔ بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو دونوں پروگرامز کے تحت مالی وسائل دستیاب ہونے کی راہ ہموار ہوگی۔
تفصیلات کے مطابق ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی کے تحت پاکستان کو تقریباً ایک ارب ڈالر جبکہ ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی کے تحت تقریباً 21 کروڑ ڈالر فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔ یوں دونوں پروگرامز کے تحت مجموعی مالی معاونت تقریباً 1.2 ارب ڈالر بنتی ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے اثرات کے باوجود معاشی استحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ عالمی ادارے نے ملک کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری اور بین الاقوامی مالیاتی مارکیٹ تک دوبارہ رسائی کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔
فنڈ کے مطابق ان پیش رفتوں سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ پاکستان کی معاشی پالیسیوں اور اصلاحات پر عالمی مالیاتی اداروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بہتر ہوا ہے۔
تاہم آئی ایم ایف نے پاکستان کو درپیش بعض بیرونی اور داخلی خطرات کی بھی نشاندہی کی ہے۔ عالمی ادارے کے مطابق جغرافیائی سیاسی صورتحال میں مزید کشیدگی، توانائی کی قیمتوں میں غیر یقینی، عالمی مالیاتی حالات کا سخت ہونا اور بین الاقوامی تجارت میں ممکنہ رکاوٹیں پاکستانی معیشت کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مزید مالی معاونت ملنے سے پاکستان کے بیرونی مالی دباؤ میں کمی لانے اور زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے میں مدد مل سکتی ہے، تاہم اس کے لیے پروگرام کی شرائط پر مؤثر عملدرآمد بھی اہم ہوگا۔
اسٹاف لیول معاہدے کے بعد اب نظریں آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے فیصلے پر ہیں۔ بورڈ کی منظوری کے بعد پاکستان کو طے شدہ پروگرامز کے تحت نئی قسطیں اور مالی وسائل دستیاب ہونے کا مرحلہ آگے بڑھے گا
