انٹرنشنل نیوز

حزب اللہ کا اسرائیل اور لبنان معاہدے پر شدید ردعمل

بیروت/واشنگٹن: امریکا، اسرائیل اور لبنان کے درمیان طے پانے والے سہ فریقی معاہدے پر حزب اللہ نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والی تقریب کے دوران معاہدے پر اسرائیلی سفیر یخیئیل لیٹر اور لبنانی سفیر ندا حمادہ معوض نے دستخط کیے۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کا مقصد ریاستی اداروں کی مضبوطی اور ملک کے تمام علاقوں میں لبنانی فوج کی عملداری کو یقینی بنانا ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ نے اس معاہدے کو قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے یکطرفہ قرار دیا ہے۔ تنظیم کے ایک سینئر رہنما کے مطابق اگر لبنانی حکومت کی جانب سے تنظیم کو زبردستی غیر مسلح کرنے کی کوشش کی گئی تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور ملک میں کشیدگی میں اضافہ ممکن ہے۔

حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسے اس عمل میں شامل نہیں کیا گیا اور وہ اپنے عسکری ہتھیاروں سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تنظیم کے مطابق جنوبی لبنان میں سیکیورٹی انتظامات مرحلہ وار کیے جا رہے ہیں۔

معاہدے کے تحت حزب اللہ کے عسکری ڈھانچے کو محدود کرنے اور اسلحے کے خاتمے کے لیے ایک فریم ورک بھی طے کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ امریکا کی جانب سے لبنان کے لیے 100 ملین ڈالر کی انسانی امداد اور ایک مشترکہ فوجی رابطہ گروپ کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے